MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اب یہ گل گلنار کب ہے خار ہے بیکار ہے

غزل اب یہ گل گلنار کب ہے خار ہے بیکار ہے آپ نے جب کہہ دیا بیکار ہے بیکار ہے چھوڑ کر مطلع غزل دم دار ہے بیکار ہے جب سپہ سالار ہی بیمار ہے بیکار ہے اک سوال ایسا ہے میرے پاس جس کے سامنے یہ جو تیری شدت انکار ہے بیکار ہے تجھ […]

اب یہ گل گلنار کب ہے خار ہے بیکار ہے Read More »

محاذ جنگ سے پہلے کہیں پڑاؤ بناؤ

غزل محاذ جنگ سے پہلے کہیں پڑاؤ بناؤ ندی پہ باندھ بنانے سے پہلے ناؤ بناؤ یہ رات صرف اندھیری نہیں ہے سرد بھی ہے دیا بنا لیا شاباش اب الاؤ بناؤ بنانا جانتے ہو تم تو سب کے دل میں جگہ ہمارے دل میں بنا کر دکھاؤ آؤ بناؤ یہ سنگ مرمری ناخن یہ

محاذ جنگ سے پہلے کہیں پڑاؤ بناؤ Read More »

اوروں کی پیاس اور ہے اور اس کی پیاس اور

غزل اوروں کی پیاس اور ہے اور اس کی پیاس اور کہتا ہے ہر گلاس پہ بس اک گلاس اور خود کو کئی برس سے یہ سمجھا رہے ہیں ہم کاٹی ہے اتنی عمر تو دو چار ماس اور پہلے ہی کم حسین کہاں تھا تمہارا غم پہنا دیا ہے اس کو غزل کا لباس

اوروں کی پیاس اور ہے اور اس کی پیاس اور Read More »

اڑتے ہیں گرتے ہیں پھر سے اڑتے ہیں

غزل اڑتے ہیں گرتے ہیں پھر سے اڑتے ہیں اڑنے والے اڑتے اڑتے اڑتے ہیں کوئی اس بوڑھے پیپل سے کہہ آؤ پنجرے میں ہم خوب مزے سے اڑتے ہیں ہائے وہ چڑیا اڑ مینا اڑ کے جھگڑے اور پھر ثابت کرنا بکرے اڑتے ہیں پنجرے میں دانا پانی سب رکھا ہے اور پرندے بھوکے

اڑتے ہیں گرتے ہیں پھر سے اڑتے ہیں Read More »

عموماً ہم اکیلے بیٹھتے ہیں

غزل عموماً ہم اکیلے بیٹھتے ہیں وہ بیٹھا ہے تو چلئے بیٹھتے ہیں مری آنکھوں میں گنجائش تو کم ہے پر اس کے خواب پورے بیٹھتے ہیں اٹھیں نظریں تو نظروں سے گریں گے یہاں نظروں پہ پہرے بیٹھتے ہیں ادب کا فرش ہے یہ اس پہ بچے بزرگوں کے سہارے بیٹھتے ہیں وہ خود

عموماً ہم اکیلے بیٹھتے ہیں Read More »

کچھ اس طرح دل سے عشق اس کا نکالنا ہے

غزل کچھ اس طرح دل سے عشق اس کا نکالنا ہے بغیر گلک کو توڑے سکہ نکالنا ہے میں جانتا ہوں محبتوں کا مقام آخر سو اس کے کمرے سے مجھ کو پنکھا نکالنا ہے نکال پھینکی گھڑی کلائی سے اس کی دی ہوئی اب اپنے خاطر اک آدھ گھنٹہ نکالنا ہے زمین کھودیں جنہیں

کچھ اس طرح دل سے عشق اس کا نکالنا ہے Read More »

وہ صرف قصے کہانیوں کے معاملے تھے چراغ رکھ دے

غزل وہ صرف قصے کہانیوں کے معاملے تھے چراغ رکھ دے چراغ گھسنے سے کوئی جن ون نہیں نکلتے چراغ رکھ دے ہماری معصومیت تو دیکھو رکھ آئے دل ہم حضور جاناں کہ جیسے کوئی خدا کا بندہ ہوا کے آگے چراغ رکھ دے کسی کے سائے کو قید کرنے کا اک طریقہ بتا رہا

وہ صرف قصے کہانیوں کے معاملے تھے چراغ رکھ دے Read More »

چمن میں کون ببولوں کی ڈال کھینچتا ہے

غزل چمن میں کون ببولوں کی ڈال کھینچتا ہے یہاں جو آتا ہے پھولوں کے گال کھینچتا ہے وہ تیر بعد میں پہلے سوال کھینچتا ہے سوال بھی جو سماعت کی کھال کھینچتا ہے اے پیار بانٹنے والے میں خوب جانتا ہوں کہ کتنی دیر میں مچھوارا جال کھینچتا ہے نکل بھی سکتا ہوں قید

چمن میں کون ببولوں کی ڈال کھینچتا ہے Read More »

تھک جاتا ہوں روز کے آنے جانے میں

غزل تھک جاتا ہوں روز کے آنے جانے میں میرا بستر لگوا دو میخانے میں اس کے ہاتھ میں پھول ہے مت کہیے کہیے اس کا ہاتھ ہے پھول کو پھول بنانے میں میں کب سے موقع کی طاق میں ہوں اس کو جان من کہہ دوں جانے انجانے میں آنکھوں میں مت روک مجھے

تھک جاتا ہوں روز کے آنے جانے میں Read More »

تتلی سے دوستی نہ گلابوں کا شوق ہے

غزل تتلی سے دوستی نہ گلابوں کا شوق ہے میری طرح اسے بھی کتابوں کا شوق ہے ورنہ تو نیند سے بھی نہیں کوئی خاص ربط آنکھوں کو صرف آپ کے خوابوں کا شوق ہے ہم عاشق غزل ہیں تو مغرور کیوں نہ ہوں آخر یہ شوق بھی تو نوابوں کا شوق ہے اس شخص

تتلی سے دوستی نہ گلابوں کا شوق ہے Read More »