MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کوئی تو ترک مراسم پہ واسطہ رہ جائے

غزل کوئی تو ترک مراسم پہ واسطہ رہ جائے وہ ہم نوا نہ رہے صورت آشنا رہ جائے عجب نہیں کہ مرا بوجھ بھی نہ مجھ سے اٹھے جہاں پڑا ہے زر جاں وہیں پڑا رہ جائے میں سوچتا ہوں مجھے انتظار کس کا ہے کواڑ رات کو گھر کا اگر کھلا رہ جائے کسے […]

کوئی تو ترک مراسم پہ واسطہ رہ جائے Read More »

دن کو مسمار ہوئے رات کو تعمیر ہوئے

غزل دن کو مسمار ہوئے رات کو تعمیر ہوئے خواب ہی خواب فقط روح کی جاگیر ہوئے عمر بھر لکھتے رہے پھر بھی ورق سادہ رہا جانے کیا لفظ تھے جو ہم سے نہ تحریر ہوئے یہ الگ دکھ ہے کہ ہیں تیرے دکھوں سے آزاد یہ الگ قید ہے ہم کیوں نہیں زنجیر ہوئے

دن کو مسمار ہوئے رات کو تعمیر ہوئے Read More »

نئے کپڑے بدل اور بال بنا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں

غزل نئے کپڑے بدل اور بال بنا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں کوئی چھوڑ گیا یہ شہر تو کیا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں کئی پلکیں ہیں اور پیڑ کئی محفوظ ہے ٹھنڈک جن کی ابھی کہیں دور نہ جا مت خاک اڑا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں کہتی ہے یہ شام

نئے کپڑے بدل اور بال بنا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں Read More »

شام سے پہلے تری شام نہ ہونے دوں گا

غزل شام سے پہلے تری شام نہ ہونے دوں گا زندگی میں تجھے ناکام نہ ہونے دوں گا اڑتے اڑتے ہی بکھر جائیں پر و بال اے کاش طائر جاں کو تہہ دام نہ ہونے دوں گا بے وفا لوگوں میں رہنا تری قسمت ہی سہی ان میں شامل میں ترا نام نہ ہونے دوں

شام سے پہلے تری شام نہ ہونے دوں گا Read More »

لوگو یہ عجیب سانحہ ہے

غزل لوگو یہ عجیب سانحہ ہے مجھ میں کوئی قتل ہو رہا ہے کس کی ہے تلاش کیا بتائیں اپنا ہی وجود کھو گیا ہے سوئیں گے ازل میں جا کے ہم سب دنیا تو عظیم رت جگا ہے سچ کو ہے دوام اس جہاں میں مجھ سے تو یہی کہا گیا ہے مرنا ہے

لوگو یہ عجیب سانحہ ہے Read More »

یہ مہر و مہ بے چراغ ایسے کہ راکھ بن کر بکھر رہے ہیں

غزل یہ مہر و مہ بے چراغ ایسے کہ راکھ بن کر بکھر رہے ہیں ہم اپنی جاں کا دیا بجھائے کسی گلی سے گزر رہے ہیں یہ دکھ جو مطلوب کا ملا ہے فشار اپنی ہی ذات کا ہے کہ ہم خود اپنی تلاش میں ہیں اور اپنے صدموں سے مر رہے ہیں وجود

یہ مہر و مہ بے چراغ ایسے کہ راکھ بن کر بکھر رہے ہیں Read More »

اس جنگل سے جب گزرو گے تو ایک شوالہ آئے گا

غزل اس جنگل سے جب گزرو گے تو ایک شوالہ آئے گا وہاں رک جانا وہاں رہ جانا وہاں سکھ کا اجالا آئے گا یہ سوچ کے اٹھنا ہر دن تم اس دل کا پھول کھلے گا ضرور اس آس پہ سونا اب کی شب کوئی خواب نرالا آئے گا جب اس کے ہاتھ نیا

اس جنگل سے جب گزرو گے تو ایک شوالہ آئے گا Read More »

جو خواب میرے نہیں تھے میں ان کو دیکھتا تھا

غزل جو خواب میرے نہیں تھے میں ان کو دیکھتا تھا اسی لیے آنکھ کھل گئی تھی اسی لیے دل دکھا ہوا تھا اداسیوں سے بھری ہوئی التجا سنی تھی کسی نگر میں کوئی کسی کو پکارتا تھا وہ اک صدا تھی کہ ہفت عالم میں گونجتی تھی نہ جانے کیسے کوئی کسی سے بچھڑ

جو خواب میرے نہیں تھے میں ان کو دیکھتا تھا Read More »

پہلا پتھر یاد ہمیشہ رہتا ہے

غزل پہلا پتھر یاد ہمیشہ رہتا ہے دکھ سے دل آباد ہمیشہ رہتا ہے پاس رہیں یا دور مگر ان آنکھوں میں موسم ابر و باد ہمیشہ رہتا ہے قید کی خواہش اس کا دکھ بن جاتی ہے جو پنچھی آزاد ہمیشہ رہتا ہے ایک گل بے مہر کھلانے کی خاطر قریۂ دل برباد ہمیشہ

پہلا پتھر یاد ہمیشہ رہتا ہے Read More »

گل و مہتاب لکھنا چاہتا ہوں

غزل گل و مہتاب لکھنا چاہتا ہوں میں اپنے خواب لکھنا چاہتا ہوں محبت سے بھرا ہے دل کا دریا مگر پایاب لکھنا چاہتا ہوں لکھوں کیسے کہ سارے شعر تم پر بہت نایاب لکھنا چاہتا ہوں میں اپنا اور تمہارا نام اک دن کنار آب لکھنا چاہتا ہوں میں خود کو بادشاہ عشق لکھ

گل و مہتاب لکھنا چاہتا ہوں Read More »