کوئی تو ترک مراسم پہ واسطہ رہ جائے
غزل کوئی تو ترک مراسم پہ واسطہ رہ جائے وہ ہم نوا نہ رہے صورت آشنا رہ جائے عجب نہیں کہ مرا بوجھ بھی نہ مجھ سے اٹھے جہاں پڑا ہے زر جاں وہیں پڑا رہ جائے میں سوچتا ہوں مجھے انتظار کس کا ہے کواڑ رات کو گھر کا اگر کھلا رہ جائے کسے […]
کوئی تو ترک مراسم پہ واسطہ رہ جائے Read More »