MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خواب تمہارے آتے ہیں

غزل خواب تمہارے آتے ہیں نیند اڑا لے جاتے ہیں آج لکھیں گے حال اپنا سوچتے ہیں ڈر جاتے ہیں عشق بہت سچا ہے ہم تارے توڑ کے لاتے ہیں رسوائی کا خوف نہیں شہرت سے گھبراتے ہیں نام تمہارا آتا ہے یادوں میں کھو جاتے ہیں دل میں درد سا اٹھتا ہے درد میں […]

خواب تمہارے آتے ہیں Read More »

اک آگ دیکھتا تھا اور جل رہا تھا میں

غزل اک آگ دیکھتا تھا اور جل رہا تھا میں وہ شام آئی مگر ہاتھ مل رہا تھا میں یہ عمر کیسے گزاری بس اتنا یاد ہے اب اداس رات کے صحرا پہ چل رہا تھا میں بس ایک ضد تھی سو خود کو تباہ کرتا رہا نصیب اس کے کہ پھر بھی سنبھل رہا

اک آگ دیکھتا تھا اور جل رہا تھا میں Read More »

کھلے ہوئے ہیں پھول ستارے دریا کے اس پار

غزل کھلے ہوئے ہیں پھول ستارے دریا کے اس پار اچھے لوگ بسے ہیں سارے دریا کے اس پار مہکی راتیں دوست ہوائیں پچھلی شب کا چاند رہ گئے سب خوش خواب نظارے دریا کے اس پار بس یہ سوچ کے سرشاری ہے اب بھی اپنے لیے بہتے ہیں خوشبو کے دھارے دریا کے اس

کھلے ہوئے ہیں پھول ستارے دریا کے اس پار Read More »

کرتا ہے کوئی اور بھی گریہ مرے دل میں

غزل کرتا ہے کوئی اور بھی گریہ مرے دل میں رہتا ہے کوئی اور بھی مجھ سا مرے دل میں وہ مل گیا پھر بھی یہ لگاتار اداسی شاید ہے کوئی اور بھی دھڑکا مرے دل میں اک رنج میں ڈوبا ہوا بے نام مسافر آیا تھا بڑی دور سے ٹھہرا مرے دل میں جس

کرتا ہے کوئی اور بھی گریہ مرے دل میں Read More »

وہ پھول تھا جادو نگری میں جس پھول کی خوشبو بھائی تھی

غزل وہ پھول تھا جادو نگری میں جس پھول کی خوشبو بھائی تھی اسے لانا جان گنوانا تھا اور اپنی جان پرائی تھی وہ رات کا طول طویل سفر کیا کہئے کیسے آئی سحر کچھ میں نے قصہ چھیڑا تھا کچھ اس نے آس بندھائی تھی خوابوں سے ادھر کی مسافت میں جو گزری ہے

وہ پھول تھا جادو نگری میں جس پھول کی خوشبو بھائی تھی Read More »

خزاں سے سینہ بھرا ہو لیکن تم اپنا چہرہ گلاب رکھنا

غزل خزاں سے سینہ بھرا ہو لیکن تم اپنا چہرہ گلاب رکھنا تمام تعبیر اس کو دینا اور اپنے حصے میں خواب رکھنا ہر اک زمیں سے ہر آسماں سے ہر اک زماں سے گزرتے رہنا کہیں پہ تارے بکھیر دینا کہیں کوئی ماہتاب رکھنا جو بے گھری کے دکھوں سے تم بھی اداس ہو

خزاں سے سینہ بھرا ہو لیکن تم اپنا چہرہ گلاب رکھنا Read More »

یہ عمر بھر کا سفر ہے اسی سہارے پر

غزل یہ عمر بھر کا سفر ہے اسی سہارے پر کہ وہ کھڑا ہے ابھی دوسرے کنارے پر اندھیرا ہجر کی وحشت کا رقص کرتا ہے تمام رات مری آنکھ کے ستارے پر ہوائے شام ترے ساتھ ہم بھی جھومتے ہیں کسی خیال کسی رنگ کے اشارے پر کسی کی یاد ستائے تو جا کے

یہ عمر بھر کا سفر ہے اسی سہارے پر Read More »

دیکھو ایسا عجب مسافر پھر کب لوٹ کے آتا ہے

غزل دیکھو ایسا عجب مسافر پھر کب لوٹ کے آتا ہے دریا اس کو رستہ دے کر آج تلک پچھتاتا ہے جنگل جنگل گھومنے والا اپنے دھیان کی دستک سے کوسوں دور اک گھر میں کسی کو ساری رات جگاتا ہے جانے کس کی آس لگی ہے جانے کس کو آنا ہے کوئی ریل کی

دیکھو ایسا عجب مسافر پھر کب لوٹ کے آتا ہے Read More »

ساحل پہ اب چراغ فروزاں ہوئے تو کیا

غزل ساحل پہ اب چراغ فروزاں ہوئے تو کیا غرقاب ہم کو کر کے یہ ساماں ہوئے تو کیا بے رنگ و بو ہے دامن اہل چمن ابھی قطرے لہو کے صرف بہاراں ہوئے تو کیا بے کار ہے بہار جو آئے نہ وقت پر گر میرے بعد عیش کے ساماں ہوئے تو کیا ہم

ساحل پہ اب چراغ فروزاں ہوئے تو کیا Read More »

موسم گل میں کوئی کب ہوش مندانہ چلا

غزل موسم گل میں کوئی کب ہوش مندانہ چلا پھول دیکھے جس نے کانٹوں میں وہ دیوانہ چلا ایک ہی منزل پہ ہر راہی کو جانا تھا مگر زعم باطل میں چلا جو بھی جداگانہ چلا اس کے ہر اک گام پر تھی کامرانی ساتھ ساتھ کارگاہ دہر میں جو سرفروشانہ چلا واعظان کم نظر

موسم گل میں کوئی کب ہوش مندانہ چلا Read More »