MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہر گل سے ہر خار سے الجھا رہتا ہے

غزل ہر گل سے ہر خار سے الجھا رہتا ہے دل ہے اپنے یار سے الجھا رہتا ہے پھول خفا رہتے ہیں اپنی شاخوں سے در اپنی دیوار سے الجھا رہتا ہے میری جوانی کا ساتھی مرا آئینہ چاندی کے ہر تار سے الجھا رہتا ہے جانے میرا شاعر بیٹا کیوں اکثر دادا کی تلوار […]

ہر گل سے ہر خار سے الجھا رہتا ہے Read More »

ہے قحط نہ طوفاں نہ کوئی خوف وبا کا

غزل ہے قحط نہ طوفاں نہ کوئی خوف وبا کا اس دیس پہ سایہ ہے کسی اور بلا کا ہر شام سسکتی ہوئی فریاد کی وادی ہر صبح سلگتا ہوا صحرا ہے صدا کا اپنا تو نہیں تھا میں کبھی اور غموں نے مارا مجھے ایسا رہا تیرا نہ خدا کا پھیلے ہوئے ہر سمت

ہے قحط نہ طوفاں نہ کوئی خوف وبا کا Read More »

جدھر ہو زندگی مشکل ادھر نہیں آتے

غزل جدھر ہو زندگی مشکل ادھر نہیں آتے اجل سے پہلے مرے چارہ گر نہیں آتے بنا ہوا ہے مرا شہر قتل گاہ کوئی پلٹ کے ماؤں کے لخت جگر نہیں آتے اٹھائے اپنوں کی لاشیں جو تم ہو نوحہ کناں مرے شہید تمہیں کیوں نظر نہیں آتے نہ انتظار کرو ان کا اے عزا

جدھر ہو زندگی مشکل ادھر نہیں آتے Read More »

وہ کیوں نہ روٹھتا میں نے بھی تو خطا کی تھی

غزل وہ کیوں نہ روٹھتا میں نے بھی تو خطا کی تھی بہت خیال رکھا تھا بہت وفا کی تھی سنا ہے ان دنوں ہم رنگ ہیں بہار اور آگ یہ آگ پھول ہو میں نے بہت دعا کی تھی نہیں تھا قرب میں بھی کچھ مگر یہ دل مرا دل مجھے نہ چھوڑ بہت

وہ کیوں نہ روٹھتا میں نے بھی تو خطا کی تھی Read More »

یہاں ہے دھوپ وہاں سائے ہیں چلے جاؤ

غزل یہاں ہے دھوپ وہاں سائے ہیں چلے جاؤ یہ لوگ لینے تمہیں آئے ہیں چلے جاؤ بلاوا آیا ہے جانے میں کوئی حرج نہیں یہاں بھی دکھ ہی سدا پائے ہیں چلے جاؤ وہ جس کے واسطے بلوایا جا رہا ہے تمہیں اگر یہ لوگ اسے لائے ہیں چلے جاؤ پڑے رہوگے یہاں کب

یہاں ہے دھوپ وہاں سائے ہیں چلے جاؤ Read More »

یہاں جو پیڑ تھے اپنی جڑوں کو چھوڑ چکے

غزل یہاں جو پیڑ تھے اپنی جڑوں کو چھوڑ چکے قدم جماتی ہوئی سب رتوں کو چھوڑ چکے کوئی تصور زنداں بھی اب نہیں باقی ہم اس زمانے کے سب دوستوں کو چھوڑ چکے بھٹک رہے ہیں اب اڑتے ہوئے غبار کے ساتھ مسافر اپنے سبھی راستوں کو چھوڑ چکے نکل چکے ہیں ترے روز

یہاں جو پیڑ تھے اپنی جڑوں کو چھوڑ چکے Read More »

یہ سوچ کے راکھ ہو گیا ہوں

غزل یہ سوچ کے راکھ ہو گیا ہوں میں شام سے صبح تک جلا ہوں جس دل میں پناہ ڈھونڈھتا تھا اب اس سے پناہ مانگتا ہوں پہلے بھی خدا کو مانتا تھا اور اب بھی خدا کو مانتا ہوں وہ جاگ رہا ہو شاید اب تک یہ سوچ کے میں بھی جاگتا ہوں اے

یہ سوچ کے راکھ ہو گیا ہوں Read More »

نظر سے دور ہیں دل سے جدا نہ ہم ہیں نہ تم

غزل نظر سے دور ہیں دل سے جدا نہ ہم ہیں نہ تم گلہ کریں بھی تو کیا بے وفا نہ ہم ہیں نہ تم ہم اک ورق پہ تو ہیں دو حروف کی صورت مگر نصیب کا لکھا ہوا نہ ہم ہیں نہ تم ہماری زندگی پرچھائیوں کی خاموشی قریب لاتی ہے جو وہ

نظر سے دور ہیں دل سے جدا نہ ہم ہیں نہ تم Read More »

محسوس لمس جس کا سر رہ گزر کیا

غزل محسوس لمس جس کا سر رہ گزر کیا سایا تھا وہ اسی کا جسے ہم سفر کیا کچھ بے ٹھکانہ کرتی رہیں ہجرتیں مدام کچھ میری وحشتوں نے مجھے در بدر کیا رہنا نہیں تھا ساتھ کسی کے مگر رہے کرنا نہیں تھا یاد کسی کو مگر کیا تو آئنہ بھی آپ تھا اور

محسوس لمس جس کا سر رہ گزر کیا Read More »

خزاں کی رت ہے جنم دن ہے اور دھواں اور پھول

غزل خزاں کی رت ہے جنم دن ہے اور دھواں اور پھول ہوا بکھیر گئی موم بتیاں اور پھول وہ لوگ آج خود اک داستاں کا حصہ ہیں جنہیں عزیز تھے قصے کہانیاں اور پھول یہ سب ترے مرے اظہار کی علامت ہیں شفق کے رنگ میں شعلہ، لہو، زباں اور پھول یقین کر کہ

خزاں کی رت ہے جنم دن ہے اور دھواں اور پھول Read More »