ہر گل سے ہر خار سے الجھا رہتا ہے
غزل ہر گل سے ہر خار سے الجھا رہتا ہے دل ہے اپنے یار سے الجھا رہتا ہے پھول خفا رہتے ہیں اپنی شاخوں سے در اپنی دیوار سے الجھا رہتا ہے میری جوانی کا ساتھی مرا آئینہ چاندی کے ہر تار سے الجھا رہتا ہے جانے میرا شاعر بیٹا کیوں اکثر دادا کی تلوار […]
ہر گل سے ہر خار سے الجھا رہتا ہے Read More »