تیر ختم ہیں تو کیا ہاتھ میں کماں رکھنا
غزل تیر ختم ہیں تو کیا ہاتھ میں کماں رکھنا اس مہیب جنگل میں حوصلہ جواں رکھنا کیا پتا ہوائیں کب مہربان ہو جائیں پانیوں میں جب اترو ساتھ بادباں رکھنا رنجشیں بھلا دینا فاصلے مٹا دینا اک مہین سا پردہ پھر بھی درمیاں رکھنا ہم بھی ہونٹ سی لیں گے جی سکے تو جی […]
تیر ختم ہیں تو کیا ہاتھ میں کماں رکھنا Read More »