MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تیر ختم ہیں تو کیا ہاتھ میں کماں رکھنا

غزل تیر ختم ہیں تو کیا ہاتھ میں کماں رکھنا اس مہیب جنگل میں حوصلہ جواں رکھنا کیا پتا ہوائیں کب مہربان ہو جائیں پانیوں میں جب اترو ساتھ بادباں رکھنا رنجشیں بھلا دینا فاصلے مٹا دینا اک مہین سا پردہ پھر بھی درمیاں رکھنا ہم بھی ہونٹ سی لیں گے جی سکے تو جی […]

تیر ختم ہیں تو کیا ہاتھ میں کماں رکھنا Read More »

خلق خدا ہے شاہ کی مخبر لگی ہوئی

غزل خلق خدا ہے شاہ کی مخبر لگی ہوئی خاموشیوں کی بھیڑ ہے گھر گھر لگی ہوئی سنگ و سگ و صدا سبھی پیچھے پڑے ہوئے اک دوڑ سی ہے ہم میں برابر لگی ہوئی صد اہتمام گریہ بھی آیا نہ اپنے کام بجھتی نہیں ہے آگ سی اندر لگی ہوئی آؤ کہ مطمئن کریں

خلق خدا ہے شاہ کی مخبر لگی ہوئی Read More »

بچا تھا ایک جو وہ رابطہ بھی ٹوٹ گیا

غزل بچا تھا ایک جو وہ رابطہ بھی ٹوٹ گیا خفا جو خود سے ہوئے آئنہ بھی ٹوٹ گیا فضائیں لاکھ بلائیں اڑان کیسے بھریں پروں کے ساتھ ہی جب حوصلہ بھی ٹوٹ گیا اس ایک پیڑ کے در پے تھیں آندھیاں کیا کیا کہ اس کے ٹوٹتے زور ہوا بھی ٹوٹ گیا پرندے ڈھونڈتے

بچا تھا ایک جو وہ رابطہ بھی ٹوٹ گیا Read More »

اب جا کر احساس ہوا ہے پیار بھی کرنا تھا

غزل اب جا کر احساس ہوا ہے پیار بھی کرنا تھا پیار جو کرنا تھا اس کا اظہار بھی کرنا تھا اول اول کشتیٔ جاں غرقاب بھی ہونا تھی آخر آخر سانسوں کو پتوار بھی کرنا تھا سب کچھ پانا بھی تھا ہم کو سب کچھ کھونا بھی جیت بھی جانا تھا پھر جیت کو

اب جا کر احساس ہوا ہے پیار بھی کرنا تھا Read More »

تیز آندھی نے فقط اک سائباں رہنے دیا

غزل تیز آندھی نے فقط اک سائباں رہنے دیا ہم زمیں زادوں کے سر پر آسماں رہنے دیا لفظ وہ برتے کہ ساری بات مبہم ہو گئی اک پردہ تھا کہ حائل درمیاں رہنے دیا آنکھ بستی نے سبھی موسم مسافر کر دیے ایک اشکوں کی روانی کا سماں رہنے دیا خون کی سرخی اندھیروں

تیز آندھی نے فقط اک سائباں رہنے دیا Read More »

بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے

غزل بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے کیسا تھا وہاں گرم دوپہروں کا جھلسنا برسات رتوں کا یہ نگر کیسا لگا ہے دن میں بھی دہل جاتا ہوں آباد گھروں سے سایا سا مرے ساتھ یہ ڈر کیسا لگا ہے ہونٹوں پہ لرزتی

بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے Read More »

حاصل ہمیں بھی قربتیں تھی آپ کی کبھی

غزل حاصل ہمیں بھی قربتیں تھی آپ کی کبھی یعنی ہمیں بھی راس تھی یہ زندگی کبھی ہم بھی بہ نام دوستی کھاتے رہے فریب ہم پر بھی تھا یہ عالم دیوانگی کبھی ہم بھی تھے کامیاب محبت میں دوستو ہم پر بھی یعنی وہ نگہ لطف تھی کبھی پہروں کسی کی یاد میں کھوئے

حاصل ہمیں بھی قربتیں تھی آپ کی کبھی Read More »

یہ بہاریں یہ چمن یہ آشیاں میرے لئے

غزل یہ بہاریں یہ چمن یہ آشیاں میرے لئے سر بہ سر ثابت ہوئے آزار جاں میرے لئے پوچھتے کیا ہو دل بے خانماں کی دوستو اک مصیبت ہے دل بے خانماں میرے لئے اب طبیعت مشکلوں سے اس قدر مانوس ہے فصل گل سے کم نہیں دور خزاں میرے لئے چل دیا جب ناخدا

یہ بہاریں یہ چمن یہ آشیاں میرے لئے Read More »

خواب جنت کے ہیں بے محل دوستو

غزل خواب جنت کے ہیں بے محل دوستو کچھ بھی ہوتا نہیں بے عمل دوستو میرا دعویٰ نہیں بے عمل دوستو دیکھنا یاد آؤں گا کل دوستو ہم مزاج غزل سے ہیں خوب آشنا ہم سے قائم ہے حسن غزل دوستو رنج کے بعد راحت بھی ہے لازمی آج گزرا تو آئے گی کل دوستو

خواب جنت کے ہیں بے محل دوستو Read More »

ناسازیٔ حالات نے دل توڑ دیا ہے

غزل ناسازیٔ حالات نے دل توڑ دیا ہے دنیا کی ہر اک بات نے دل توڑ دیا ہے کچھ ساقئ محفل بھی رہا رندوں سے برہم کچھ شدت آفات نے دل توڑ دیا ہے آغاز ملاقات میں کیا جوش تھا دل میں انجام ملاقات نے دل توڑ دیا ہے بے حال و پریشاں ہے بشر

ناسازیٔ حالات نے دل توڑ دیا ہے Read More »