MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نالۂ دل رائیگاں دیکھیے کب تک رہے

غزل نالۂ دل رائیگاں دیکھیے کب تک رہے نا مرادی کامراں دیکھیے کب تک رہے میری الفت کا یقیں دیکھیے کب ہو انہیں یہ حقیقت داستاں دیکھیے کب تک رہے دیکھیے کب تک رہیں زندگی پر ہم گراں زندگی ہم پر گراں دیکھیے کب تک رہے دیکھیے کب تک رہیں در بدر کی ٹھوکریں گردش […]

نالۂ دل رائیگاں دیکھیے کب تک رہے Read More »

دل لگا بیٹھا ہوں اس عیار سے

غزل دل لگا بیٹھا ہوں اس عیار سے جس کو نفرت ہے وفا سے پیار سے دیکھیے ہم کس قدر ہیں بے نیاز کچھ نہ مانگا حسن کی سرکار سے اے نگاہ ناز تیرا شکریہ مطمئن ہے دل تری گفتار سے کس لئے ہوں زندگی سے بد گماں کاش وہ پوچھے کسی دن پیار سے

دل لگا بیٹھا ہوں اس عیار سے Read More »

لوگ جو دل فگار ہوتے ہیں

غزل لوگ جو دل فگار ہوتے ہیں چلتے پھرتے مزار ہوتے ہیں جو محبت میں خار ہوتے ہیں صاحب صد وقار ہوتے ہیں جن کے دامن میں خار ہوتے ہیں قدردان بہار ہوتے ہیں جو محبت شعار ہوتے ہیں سازشوں کا شکار ہوتے ہیں میری بربادیٔ محبت پر آپ کیوں شرمسار ہوتے ہیں ان کے

لوگ جو دل فگار ہوتے ہیں Read More »

درد والے ہو تو پھر ایسا کرو

غزل درد والے ہو تو پھر ایسا کرو ساتھ کچھ ہمدرد بھی رکھا کرو اپنا بیگانہ نہ تم دیکھا کرو ہر کسی سے مصلحت برتا کرو دوسروں کے درد کی چھوڑو میاں پہلے اپنے درد کا چارہ کرو گو بلندی ہو کہ پستی ہر جگہ ذہن و دل دونوں کھلے رکھا کرو اس قدر خاموشیاں

درد والے ہو تو پھر ایسا کرو Read More »

ہمیں نفرت ہے ایسی زندگی سے

غزل ہمیں نفرت ہے ایسی زندگی سے تعلق ہی نہ ہو جس کو خوشی سے الٰہی کیا زمانہ آ گیا ہے ہے نفرت آدمی کو آدمی سے بڑھی ہے اور دل کی بے قراری کہا ہے حال دل جب بھی کسی سے ہماری سادگی پر غور کیجئے شکایت آپ کی اور آپ ہی سے انہیں

ہمیں نفرت ہے ایسی زندگی سے Read More »

کبھی میں نے انہیں پوچھا نہیں ہے

غزل کبھی میں نے انہیں پوچھا نہیں ہے انہیں بھی ہے محبت یا نہیں ہے اجازت ہو تو میں یہ عرض کر دوں سلیقہ آپ کا اچھا نہیں ہے وہی چھایا ہوا ہے زندگی پر وہ جس کو آج تک دیکھا نہیں ہے ستم آلام محرومی تباہی مری تقدیر میں کیا کیا نہیں ہے ابھی

کبھی میں نے انہیں پوچھا نہیں ہے Read More »

بیٹھے ہو سر راہ گزر کیوں نہیں جاتے

غزل بیٹھے ہو سر راہ گزر کیوں نہیں جاتے تم لوگ تو گھر والے ہو گھر کیوں نہیں جاتے یہ وقت کے حاکم ہیں سنا وقت کے حاکم یہ کہتے ہیں مر جاؤ تو مر کیوں نہیں جاتے اس بات سے ظاہر ہے تمہیں ایک خدا ہو ہم ورنہ کسی اور کے در کیوں نہیں

بیٹھے ہو سر راہ گزر کیوں نہیں جاتے Read More »

غافل ہوں تری یاد سے ایسا تو نہیں ہے

غزل غافل ہوں تری یاد سے ایسا تو نہیں ہے ہر وقت مرے دل میں تری یاد مکیں ہے دنیائے محبت بڑی دل کش ہے حسیں ہے ہر ایک کو راس آئے ضروری تو نہیں ہے مانا کہ زمانے کا ہر اک نقش حسیں ہے اس پر بھی زمانے میں کوئی تجھ سا نہیں ہے

غافل ہوں تری یاد سے ایسا تو نہیں ہے Read More »

تمھی ہو دعائیں وظیفہ بھی تم ہو

غزل   تمھی ہو دعائیں وظیفہ بھی تم ہو عبادت کا میری نتیجہ بھی تم ہو تمھی ہو ہماری محبت کا محور ہماری وفا کا صحیفہ بھی تم ہو تمھی ہو فقط ایک نیکی ہماری کبیرہ بھی تم ہو صغیرہ بھی تم ہو تمھی شاہزادے مری سلطنت کے ہو جاگیر میری ذخیرہ بھی تم ہو

تمھی ہو دعائیں وظیفہ بھی تم ہو Read More »

وہ شخص کیا جہاں میں مرا قد گھٹاۓ گا

غزل وہ شخص کیا جہاں میں مرا قد گھٹاۓ گا جو خود گرا ہوا ہے مجھے کیا گراۓ گا یادوں کا اُسکی جشن جو ایسے منائے گا خود کوبھی دیکھ لینا کہ تو بھول جاۓ گا سب لوگ جانتے ہیں کہ ہم عشق والے ہیں دنیا کو کیا ہماری تو قیمت بتائے گا اپنا کیا

وہ شخص کیا جہاں میں مرا قد گھٹاۓ گا Read More »