MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دل کھول کر ہنسیں نہ تو آنسو بہائیں لوگ

غزل دل کھول کر ہنسیں نہ تو آنسو بہائیں لوگ چیخوں کو پھر بتاؤ کہ کیسے دبائیں لوگ رہنا پڑے گا ایسے ہی تا زندگی ہمیں جو دن گزر گۓ ہیں انھیں بھول جائیں لوگ پہلے تو دل سے دل کو ملانے کی بات تھی اب حکم یہ ہوا ہے کہ دوری بنائیں لوگ لاشوں […]

دل کھول کر ہنسیں نہ تو آنسو بہائیں لوگ Read More »

ہم تمھیں بددعا نہیں دیں گے

غزل ہم تمھیں بددعا نہیں دیں گے اتنی لمبی سزا نہیں دیں گے غم کو محسوس کیجیے صاحب غم تو ایسے مزہ نہیں دیں گے اپنی بد صورتی کرو محسوس ہم تمھیں آئینہ نہیں دیں گے یہ مرض ٹھیک ہی نہیں ہوگا آپ جب تک دوا نہیں دیں گے تم کو کر دیں گے بس

ہم تمھیں بددعا نہیں دیں گے Read More »

حسیں زندگی کا مزہ لیجیے

غزل حسیں زندگی کا مزہ لیجیے دعا دیجئے اور دعا لیجیے فقط داغِ چہرہ نہ دیکھیں مرا کبھی اپنے ہاتھ آئینہ لیجیے گزارے کی صورت نہ آئے نظر تو چپکے سے دامن چھڑا لیجیے سب احسان اپنے گنا بھی چکے جناب اپنا اب راستہ لیجیے وفادار تھی میں وفا دار ہُوں جو دل چاہے تو

حسیں زندگی کا مزہ لیجیے Read More »

اک خلا سا بنا کے دیکھ لیا

غزل اک خلا سا بنا کے دیکھ لیا خود سے تُجھ کو گھٹا کے دیکھ لیا پتھروں کی ہمیشہ زد میں رہی خود کو شیشہ بنا کے دیکھ لیا عاجزی میں سکون کتنا ہے اپنے میں کو مٹا کے دیکھ لیا تُجھ سے منسوب میں رہی پھِر بھی نام تیرا ہٹا کے دیکھ لیا آخری

اک خلا سا بنا کے دیکھ لیا Read More »

اسے زمانے کی ایسی کوئی ہوا نہ لگے

غزل اسے زمانے کی ایسی کوئی ہوا نہ لگے خفا وہ مجھ سے رہے اور کبھی خفا نہ لگے کسی کے بارے میں کچھ بھی کہو تو ایسے کہو کہ سننے والا سنے اور اسے برا نہ لگے بہار آئی تو بیشک ہے صحنِ گلشن میں کوئی بھی پھول مگر شاخ پر کِھلا نہ لگے

اسے زمانے کی ایسی کوئی ہوا نہ لگے Read More »

رکوں تو رکتا ہے چلنے پہ ساتھ چلتا ہے

غزل رکوں تو رکتا ہے چلنے پہ ساتھ چلتا ہے مگر گرفت میں آتا نہیں کہ سایہ ہے جھلس رہے ہیں بدن دھوپ کی تمازت سے کہ رات بھر بڑے زوروں کا ابر برسا ہے ابھی تو کل کی تھکن جسم سے نہیں نکلی ستم کہ آج کا دن بھی پہاڑ جیسا ہے سمجھ رہے

رکوں تو رکتا ہے چلنے پہ ساتھ چلتا ہے Read More »

رہا شامل جو میرے رتجگوں میں کون تھا وہ

غزل رہا شامل جو میرے رتجگوں میں کون تھا وہ جو تھا تسکین جاں تنہائیوں میں کون تھا وہ مری آواز جیسی اور بھی آواز تھی اک یقیناً تھا کوئی تو پربتوں میں کون تھا وہ جو میرے ساتھ پہنچا منزلوں تک کون ہے یہ جسے میں چھوڑ آیا راستوں میں کون تھا وہ بہت

رہا شامل جو میرے رتجگوں میں کون تھا وہ Read More »

ساری تعبیریں ہیں اس کی سارے خواب اس کے لیے

غزل ساری تعبیریں ہیں اس کی سارے خواب اس کے لیے ہر سوال اس کے لیے ہے ہر جواب اس کے لیے ہجر کے لمحے شماریں یا لکیریں حرف ہم ہر حساب اس کے لیے ہے ہر کتاب اس کے لیے قرب اس کا ہے ہماری واپسی کا منتظر جھیلتے ہیں ہم بھی دوری کا

ساری تعبیریں ہیں اس کی سارے خواب اس کے لیے Read More »

ہم زمین زادوں کو آسماں بنا جانا

غزل ہم زمین زادوں کو آسماں بنا جانا پہلے خاک کر دینا اور پھر اڑا جانا جسم سے جدا رہنا روح میں سما جانا کوئی آپ سے سیکھے جان پر بنا جانا بے شعور ساتھی نے ساحلوں کے باسی نے ہم کو سر پھرا سمجھا دشت کی ہوا جانا اور گر قریب آتے نقش اور

ہم زمین زادوں کو آسماں بنا جانا Read More »

وہ جن کی چھاؤں میں پلے بڑے ہوئے

غزل وہ جن کی چھاؤں میں پلے بڑے ہوئے ادھر ادھر پڑے ہیں سب کٹے ہوئے ہزیمتوں کے کرب کی علامتیں چراغ طاق طاق ہیں بجھے ہوئے تمام تیر دشمنوں سے جا ملے کمان دار کیا کریں ڈٹے ہوئے وصال رت میں ہجر کی حکایتیں اداس کر گئی ہیں دل کھلے ہوئے گھروں کی رونقیں

وہ جن کی چھاؤں میں پلے بڑے ہوئے Read More »