دل کھول کر ہنسیں نہ تو آنسو بہائیں لوگ
غزل دل کھول کر ہنسیں نہ تو آنسو بہائیں لوگ چیخوں کو پھر بتاؤ کہ کیسے دبائیں لوگ رہنا پڑے گا ایسے ہی تا زندگی ہمیں جو دن گزر گۓ ہیں انھیں بھول جائیں لوگ پہلے تو دل سے دل کو ملانے کی بات تھی اب حکم یہ ہوا ہے کہ دوری بنائیں لوگ لاشوں […]
دل کھول کر ہنسیں نہ تو آنسو بہائیں لوگ Read More »