MOJ E SUKHAN

تمھی ہو دعائیں وظیفہ بھی تم ہو

غزل

 

تمھی ہو دعائیں وظیفہ بھی تم ہو
عبادت کا میری نتیجہ بھی تم ہو

تمھی ہو ہماری محبت کا محور
ہماری وفا کا صحیفہ بھی تم ہو

تمھی ہو فقط ایک نیکی ہماری
کبیرہ بھی تم ہو صغیرہ بھی تم ہو

تمھی شاہزادے مری سلطنت کے
ہو جاگیر میری ذخیرہ بھی تم ہو

تمھی تبصرہ ہو مری شاعری کا عتیق
رباعی تمھی ہو قصیدہ بھی تم ہو

تمھیں خار میں گل ہو، صحرا میں پانی
سمندر میں سُندر جزیرہ بھی تم ہو

تمھی ابتدا، انتہا سب تمھیں سے
مری زندگی کا سلیقہ بھی تم ہو

تمھیں پیار کی حد بتاؤں میں کیسے
مری تم عبادت، عقیدہ بھی تم ہو

نصرت عتیق گورکھپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم