MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جب انکی بزم سے أٹھ أٹھ کے لوگ جانے لگے

غزل جب انکی بزم سے أٹھ أٹھ کے لوگ جانے لگے تو جا کے ہوش ذرا ان کے کچھ ٹھکانے لگے چراغِ عشق جو اپنا جلا نہ پائے کبھی تو دوسروں کے دیے نفرتاً بجھانے لگے وہ جن کو ہم نے ہی پہنچایا انکی منزل تک عجیب ہیں وہ، ہمیں راستہ بتانے لگے ہمارے زندوں […]

جب انکی بزم سے أٹھ أٹھ کے لوگ جانے لگے Read More »

ایک دیوانے سے صحرا میں بچا کچھ بھی نہیں

غزل ایک دیوانے سے صحرا میں بچا کچھ بھی نہیں حوصلہ گر ہو تو مشکل راستہ کچھ بھی نہیں یہ بھی اعجازِ محبت ہے کہ اس کے دل کی بات میں نے سب کچھ سن لیا اس نے کہا کچھ بھی نہیں سوچی سمجھی سازشوں کو حادثہ کیسے کہیں آپکی نفرت کے آگے حادثہ کچھ

ایک دیوانے سے صحرا میں بچا کچھ بھی نہیں Read More »

جو رحم کھاتا نہ تھا بستیاں جلاتے ہوئے

غزل جو رحم کھاتا نہ تھا بستیاں جلاتے ہوئے وہ رو پڑا ہے مگر اپنا گھر بچاتے ہوئے کوئی بتائے یہ اُسکی ہے کیسی ہمدردی ہمارے آنسو بھی پوچھے تو مسکراتے ہوۓ وہ کیفیت تھی کہ دل ہی نکال کر رکھ دیں عجب طرح سے پکارا تھا اس نے جاتے ہوۓ بہت دنوں سے یہ

جو رحم کھاتا نہ تھا بستیاں جلاتے ہوئے Read More »

واقعی یہ جو گنہگار نظر آتے ہیں

غزل واقعی یہ جو گنہگار نظر آتے ہیں سارے اوپر سے چمکدار نظر آتے ہیں آپ کے پاس ہیں ہر رنگ کی خبریں صاحب آپ تو آج کا اخبار نظر آتے ہیں بیٹھی ملتی ہے رعایا بھی جہاں گھٹنوں پر آج انھیں شاہوں کے دربار نظر آتے ہیں سبکو فکشن میں ضرورت نے جکڑ رکھا

واقعی یہ جو گنہگار نظر آتے ہیں Read More »

ہمارے واسطے جب وہ نہ جی نڈھال کریں

غزل ہمارے واسطے جب وہ نہ جی نڈھال کریں تو کیا پڑی ہے کسی کا جو ہم خیال کرہں مصاحبوں سے گھرے رہتے ہیں جنابِ من ہمیں بھی وقت دیں کچھ ہم بھی عرض حال کریں عجیب ظِلِ٘ الہٰی نے حکم بھیجا ہے جو خالی بیٹھے ہیں ان سے کہو کمال کریں کسی کا آپ

ہمارے واسطے جب وہ نہ جی نڈھال کریں Read More »

تجھے اپنی فضاؤں پر پشیماں کون دیکھے گا

غزل تجھے اپنی فضاؤں پر پشیماں کون دیکھے گا ترا غم سہ کے بھی تجھ کو پریشاں کون دیکھے گا نہ آئیں وہ نظر اندر تو باہر کی طرف دیکھوں تصور ہے تو پھر تصویر جاناں کون دیکھے گا کسی کے نور کی جب دیدہ و دل میں تجلی ہے تو پھر بزم جہاں کے

تجھے اپنی فضاؤں پر پشیماں کون دیکھے گا Read More »

نہ رنگ و بو ہے نہ کیف و نغمہ نظر میں بھی دل ربا نہیں ہے

غزل نہ رنگ و بو ہے نہ کیف و نغمہ نظر میں بھی دل ربا نہیں ہے میں کیسے سمجھوں بہار آئی کہ غنچہ دل کا کھلا نہیں ہے تری محبت کے خواب دیکھے تری محبت کے گیت گائے تیری محبت میں کیا نہ پایا تیری محبت میں کیا نہیں ہے چھپاؤں زخموں کے اپنے

نہ رنگ و بو ہے نہ کیف و نغمہ نظر میں بھی دل ربا نہیں ہے Read More »

نظریں جھکی سوال پہ میرے جواب میں

غزل نظریں جھکی سوال پہ میرے جواب میں کیا کیا نہ کہہ گئی ہے نگاہیں حجاب میں مضراب ہی سے ساز میں ہے ساری نغمگی ہے زندگی کا لطف نہاں اضطراب میں راہ وفا میں اس کے قدم ڈگمگائیں کیوں دیکھا ہے جس نے تیرا کرم بھی عتاب میں صدقے نگاہ ناز کے ہوں بے

نظریں جھکی سوال پہ میرے جواب میں Read More »

عارض اشکوں سے ترے تر نہیں دیکھے جاتے

غزل عارض اشکوں سے ترے تر نہیں دیکھے جاتے خاک میں رلتے یہ گوہر نہیں دیکھے جاتے دیکھ سکتا ہوں زمانے کی بدلتی نظریں تیرے بدلے ہوئے تیور نہیں دیکھے جاتے آئنہ بھی رخ روشن کے مقابل نہ رہے ہم سے کوئی ترے ہمسر نہیں دیکھے جاتے دل کے ساگر میں جو ہر شام و

عارض اشکوں سے ترے تر نہیں دیکھے جاتے Read More »

حسین خواب نہیں کوئی زندگی کی طرح

غزل حسین خواب نہیں کوئی زندگی کی طرح کوئی سراب جہاں میں نہیں خوشی کی طرح فضا میں تیرے تبسم نے بجلیاں بھر دیں چمک اٹھے ہیں اندھیرے بھی روشنی کی طرح شب فراق کے بڑھتے ہوئے اندھیروں میں تم آ گئے مرے آنگن میں چاندنی کی طرح نسیم صبح کی شبنم کی فرحتیں لے

حسین خواب نہیں کوئی زندگی کی طرح Read More »