وہ ہنس کے دیکھتی ہوتی تو اس سے بات کرتے
غزل وہ ہنس کے دیکھتی ہوتی تو اس سے بات کرتے کوئی امید بھی ہوتی تو اس سے بات کرتے ہم اسٹیشن سے باہر آئے اس افسوس کے ساتھ وہ لڑکی اجنبی ہوتی تو اس سے بات کرتے ہمارے جام آدھی حوصلہ افزائی کر پائے اگر اس نے بھی پی ہوتی تو اس سے بات […]
وہ ہنس کے دیکھتی ہوتی تو اس سے بات کرتے Read More »