MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نگاہ مختصر سے داستاں تک بات جا پہنچی

غزل نگاہ مختصر سے داستاں تک بات جا پہنچی خدا جانے کہاں سے اب کہاں تک بات جا پہنچی نگاہوں کی زباں نے کہہ دیا جو کچھ نہ کہنا تھا دل سوزاں سے جب اشک رواں تک بات جا پہنچی سنور اٹھی ہے کیا زلف زمیں اب دست انساں سے کہ ماہ و مشتری و […]

نگاہ مختصر سے داستاں تک بات جا پہنچی Read More »

درد ہی دیتا ہے اب وہ نہ دوا دیتا ہے

غزل درد ہی دیتا ہے اب وہ نہ دوا دیتا ہے ہائے کیسا وہ وفاؤں کا صلہ دیتا ہے میں نے پینے کے لیے ہاتھ بڑھایا کب تھا اپنے ہاتھوں سے کوئی آ کے پلا دیتا ہے گرنے لگتے ہیں اگر اشک مری آنکھوں سے اپنا دامن کوئی چپکے سے بڑھا دیتا ہے جس نے

درد ہی دیتا ہے اب وہ نہ دوا دیتا ہے Read More »

جب سے نظر سے دور وہ پیارے چلے گئے

غزل جب سے نظر سے دور وہ پیارے چلے گئے وہ شام وہ سحر وہ نظارے چلے گئے رسم وفا نہ پیار کی پہلی سی ریت ہے جانے کہاں وہ پریت کے دھارے چلے گئے ہم کھیلتے ہی رہ گئے طوفان و موج سے آ آ کے پاس دور کنارے چلے گئے منزل کی دھن

جب سے نظر سے دور وہ پیارے چلے گئے Read More »

ہر آنے جانے والے کا منہ دیکھتا رہا

غزل ہر آنے جانے والے کا منہ دیکھتا رہا میں رہ گزر پہ زیست کی تنہا کھڑا رہا اس زندگی نے زخم دئے بارہا مگر جانے ہر ایک زخم کو کیوں چومتا رہا چھوڑا ہے آندھیوں نے نہ باقی نشان راہ پھر بھی میں تیرا نقش قدم ڈھونڈھتا رہا تنہا نہیں رہا ہوں میں تیرے

ہر آنے جانے والے کا منہ دیکھتا رہا Read More »

محبت ہی اگر تجھ کو نہ راس آئی تو کیا ہوگا

غزل محبت ہی اگر تجھ کو نہ راس آئی تو کیا ہوگا ترے غم میں طبیعت میری گھبرائی تو کیا ہوگا تجھے پانے کی خاطر کس قدر بے چین رہتا ہوں تجھے پا کر بھی گر تسکیں نہیں پائی تو کیا ہوگا نہیں پیتا نہ پی زاہد مگر یہ تو سمجھ لیتا اگر ساقی نے

محبت ہی اگر تجھ کو نہ راس آئی تو کیا ہوگا Read More »

وہ جو بے نیاز جہاں کرے مجھے اس نظر کی تلاش ہے

غزل وہ جو بے نیاز جہاں کرے مجھے اس نظر کی تلاش ہے جو تجھے بنا دے غم آشنا مجھے اس اثر کی تلاش ہے نہ رہے جہاں پہ پہنچ کے پھر کسی در پہ جانے کی آرزو جہاں عشق کی بھی ہے آبرو مجھے ایسے در کی تلاش ہے جہاں بکھری پیار کی داستاں

وہ جو بے نیاز جہاں کرے مجھے اس نظر کی تلاش ہے Read More »

کسی در پہ جانے کو جی چاہتا ہے

غزل کسی در پہ جانے کو جی چاہتا ہے وفا آزمانے کو جی چاہتا ہے اٹھایا تھا جس بزم سے ہم کو اک دن وہیں پھر بھی جانے کو جی چاہتا ہے ہوئے مندمل زخم دل میرے لیکن نئے زخم کھانے کو جی چاہتا ہے مآل محبت سمجھتا ہوں پھر بھی کہیں دل لگانے کو

کسی در پہ جانے کو جی چاہتا ہے Read More »

سونا لگا بغیر ترے مجھ کو سارا گھر

غزل سونا لگا بغیر ترے مجھ کو سارا گھر بیلیں چڑھیں گلاب کی جب باتھ روم پر اوپر وہ گاؤں نیچے لڑھکتی ڈھلان پر مسجد کو سجدہ ریز خمیدہ سی اک ڈگر کن الجھنوں میں بچے کو پڑھوائی نرسری کن کوششوں سے طے ہوا اک سال اک سفر آٹا بھی گھی بھی گھر بھی یہاں

سونا لگا بغیر ترے مجھ کو سارا گھر Read More »

اور سفر لمبا ہوا ہر گام پر

غزل اور سفر لمبا ہوا ہر گام پر تھک کے جب بیٹھے کبوتر بام پر آ سکھی دہرائیں پھر بچپن کے دن آ سکھی ڈالیں ہنڈولے آم پر یہ الگ دفتر میں جا کر گم ہوئے خیر سے لگ تو گئے وہ کام پر ایک کاٹا رام نے سیتا کے ساتھ دوسرا بن باس میرے

اور سفر لمبا ہوا ہر گام پر Read More »

چھتیس سال کا بھرا سنیاس چھین کر

غزل چھتیس سال کا بھرا سنیاس چھین کر یہ کون لے گیا مرا بن باس چھین کر اے شاہ کربلا مری امداد کو اب آ خوش ہے غنیم مجھ سے مری پیاس چھین کر سایہ نہ ہو تو دھوپ جلاتی ہے جسم کو تم کیا کرو گے دھرتی سے آکاس چھین کر جینے کی جو

چھتیس سال کا بھرا سنیاس چھین کر Read More »