شبدوں کی مدھیرا سے بھگو کر تری چولی
غزل شبدوں کی مدھیرا سے بھگو کر تری چولی کھیلی ہے سہیلی ترے سنجوگ میں ہولی در آئے دراڑوں کبھی دیواروں سے پالا برسات میں ٹپکے ہے مرا گھر مری کھولی خوشبو کو اٹھا کر رکھا دامان دعا میں سورج کی کرن روح کے پردے میں پرو لی طوطے نے کہا کون تھا دریا پہ […]
شبدوں کی مدھیرا سے بھگو کر تری چولی Read More »