MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

شبدوں کی مدھیرا سے بھگو کر تری چولی

غزل شبدوں کی مدھیرا سے بھگو کر تری چولی کھیلی ہے سہیلی ترے سنجوگ میں ہولی در آئے دراڑوں کبھی دیواروں سے پالا برسات میں ٹپکے ہے مرا گھر مری کھولی خوشبو کو اٹھا کر رکھا دامان دعا میں سورج کی کرن روح کے پردے میں پرو لی طوطے نے کہا کون تھا دریا پہ […]

شبدوں کی مدھیرا سے بھگو کر تری چولی Read More »

دل سے حصول زر کے سبھی زعم ہٹ گئے

غزل دل سے حصول زر کے سبھی زعم ہٹ گئے فکر معاش بڑھ گئی خانوں میں بٹ گئے پھر یوں ہوا کہ مجھ سے وہ یونہی بچھڑ گیا پھر یوں ہوا کہ زیست کے دن یونہی کٹ گئے کھینا سکھی سکھی نہ سجن کی طرف مجھے لینا سکھی سکھی مرے پاؤں رپٹ گئے آئینہ اس

دل سے حصول زر کے سبھی زعم ہٹ گئے Read More »

نس نس میں نشہ پیار کا معمور ہوا ہے

غزل نس نس میں نشہ پیار کا معمور ہوا ہے دل تیرے ملن کے لیے مجبور ہوا ہے وادی میں برس کر ابھی برسات چھٹی ہے چڑیوں کی چہک سے سمے مسرور ہوا ہے آنکھوں کی گزر گاہ سے در آیا ہے دل میں تو میرے تصرف سے بہت دور ہوا ہے سو بار ترا

نس نس میں نشہ پیار کا معمور ہوا ہے Read More »

کہہ دے من کی بات تو گوری کاہے کو شرماتی ہے

غزل کہہ دے من کی بات تو گوری کاہے کو شرماتی ہے شام ڈھلے تجھ کو کس اپرادھی کی یاد ستاتی ہے تجھ کو مجھ سے پریم ہے تو بے کل ہے میری چاہت میں تیری پایلیا کی جھن جھن سارے بھید بتاتی ہے کھول کے گھونگھٹ کے پٹ پیار سے کرتی ہے پرنام مجھے

کہہ دے من کی بات تو گوری کاہے کو شرماتی ہے Read More »

کھڑا جوڑا گندھی بالوں کی چوٹی

غزل کھڑا جوڑا گندھی بالوں کی چوٹی دوپٹا زعفرانی زرد کوٹی شکستہ دل کے اندر تیاگ کی دھن پھٹی پتلون کے نیچے لنگوٹی رسیلے لب وہی بنسی کے اوپر سجیلی چھب وہی کالی کلوٹی بچھڑ مت یوں کہ دل تجھ کو بھلا دے کسک رہنے دے کچھ تو چھوٹی موٹی نہیں ایسے نہیں ہٹ چھوڑ

کھڑا جوڑا گندھی بالوں کی چوٹی Read More »

دل پہ تھی ثبت جو تحریر مٹائی نہ گئی

غزل دل پہ تھی ثبت جو تحریر مٹائی نہ گئی کس کی تصویر تھی تصویر بھلائی نہ گئی آ کے اس بن میں ملے پھر نہ کبھی دو پریمی گھاس پگڈنڈیوں سے جھیل سے کائی نہ گئی پیار کی آنچ سے جل اٹھا کنول کانت بدن اس سے صورت مری نینوں میں چھپائی نہ گئی

دل پہ تھی ثبت جو تحریر مٹائی نہ گئی Read More »

پاس بھی رہ کر دور ہے تو

غزل پاس بھی رہ کر دور ہے تو میں بے بس مجبور ہے تو پیاسی اکھیاں ڈھونڈھ تھکیں بول کہاں مستور ہے تو روگ اور جوگ اٹوٹ سہی آس یا پاس ضرور ہے تو ایک اکیلا میں بے کل تنہا چکنا چور ہے تو پیار اقرار سے جوڑ سبھی میں دنیا دستور ہے تو ہاتھ

پاس بھی رہ کر دور ہے تو Read More »

دل کو جب آگہی کی آگ لگے

غزل دل کو جب آگہی کی آگ لگے تب سخن سوچ کو سہاگ لگے ان بھری بستیوں کے لوگ مدام ان ہری کھیتیوں کو بھاگ لگے منتشر ہو تو گر میں گیان کہاں سر ملیں سب تو ایک راگ لگے ہونٹ گوری کے رس بھرے انجیر لٹ کا لچھا لٹک کے ناگ لگے کشٹ ٹوٹے

دل کو جب آگہی کی آگ لگے Read More »

تجھ سے ملنے کی التجا کیسی

غزل تجھ سے ملنے کی التجا کیسی ہونٹ پر آ گئی دعا کیسی جھڑ گئے بال ڈھیلی پڑ گئی کھال دل میں اب خوشبوئے حنا کیسی سیج کیا ہے بغیر سیاں کے پانیوں کے بناں گھٹا کیسی دل میں در آنا دل کو کلپانا دان کیسا ہے یہ دیا کیسی کوئی ہنگامہ کوئی سر نامہ

تجھ سے ملنے کی التجا کیسی Read More »

اردو ادب (مختصر جائزہ)

اردو ادب (مختصر جائزہ) یہ مضمون پہلی بار 1954 میں شائع ہوا تھا اس لئے یہ تاریخی جائزہ بھی 1954 تک محدود ہے۔   جب منگولوں کے غول در غول جنوبی چین سے کاریتھین پہاڑوں تک ہر تہذیب کو بہا لے گئے تو دنیا کی فرہنگوں میں این نئے لفظ کا اضافہ ہوا۔ تاتاری لفظ

اردو ادب (مختصر جائزہ) Read More »