MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دشت وحشت کو فقط قیس ہی بھایا ہوا ہے

غزل دشت وحشت کو فقط قیس ہی بھایا ہوا ہے ہم نے بھی عشق کا آزار اٹھایا ہوا ہے سرکشی موج ہوا کی، یہ کہاں سمجھے گی کس مشقت سے دیا ہم نے جلایا ہوا ہے کیسے گلفام کہوں، کیسے ستارہ سمجھوں وہ بدن اور ہی مٹی کا بنایا ہوا ہے موج خوش بو کی […]

دشت وحشت کو فقط قیس ہی بھایا ہوا ہے Read More »

رات کا اپنا اک تقدس ہے سو اسے پائمال مت کرنا

غزل رات کا اپنا اک تقدس ہے سو اسے پائمال مت کرنا جب دیے گفتگو کے روشن ہوں لوٹنے کا سوال مت کرنا موسم یاد کا کوئی جھونکا، اب جو گزرے تمہاری خلوت سے سوچ لینا ہمارے بارے میں، پر ہمارا ملال مت کرنا رت جگوں کی رتیں تو خیر یوں ہی آتی جاتی ہیں،

رات کا اپنا اک تقدس ہے سو اسے پائمال مت کرنا Read More »

شریک خلوت خوں بار تھوڑی ہوتا ہے

غزل شریک خلوت خوں بار تھوڑی ہوتا ہے یہ شہر غم کا، نگہ دار تھوڑی ہوتا ہے شکست و فتح کے اسباب طے شدہ تو نہیں جو ایک بار ہو، ہر بار تھوڑی ہوتا ہے ہے ایک وقت مقرر، وگرنہ دنیا میں کوئی زوال پہ تیار تھوڑی ہوتا ہے فریب دعویٰ گزاری ہے، مسئلہ کچھ

شریک خلوت خوں بار تھوڑی ہوتا ہے Read More »

اک دیا ایسا بجھا ہے مجھ میں

غزل اک دیا ایسا بجھا ہے مجھ میں نوحہ گر! اب کے ہوا ہے مجھ میں عکس در عکس بکھرنا ہے مجھے جانے کیا ٹوٹ گیا ہے مجھ میں نہ کوئی خواب، نہ آنسو نہ خیال کیا عجب قحط پڑا ہے مجھ میں چشم حیراں ہے، سر آئینہ رونما کون ہوا ہے مجھ میں دل

اک دیا ایسا بجھا ہے مجھ میں Read More »

رات آنکھوں میں کاٹنے والو شاد رہو آباد رہو

غزل رات آنکھوں میں کاٹنے والو شاد رہو آباد رہو بار ہجر اٹھانے والو شاد رہو آباد رہو کچی عمر میں کل کے دکھوں سے آج الجھنا ٹھیک نہیں پہلا ساون بھیگنے والو شاد رہو آباد رہو اب آئے ہو سارے دیئے جب اک اک کر کے بجھ بھی گئے لیکن لوٹ کے آنے والو

رات آنکھوں میں کاٹنے والو شاد رہو آباد رہو Read More »

وہ شخص جو رکھتا ہے جمال اور طرح کا

غزل وہ شخص جو رکھتا ہے جمال اور طرح کا ہے اس سے بچھڑنے کا ملال اور طرح کا آثار خرابی کے ہیں، آغاز سے ظاہر لگتا ہے کہ گزرے گا، یہ سال اور طرح کا اس شہر زیاں کار کے امکان سے باہر میں اب کے دکھاؤں گا، کمال اور طرح کا ہوتا ہے

وہ شخص جو رکھتا ہے جمال اور طرح کا Read More »

تجھے کب پکارا نہیں جا رہا

غزل تجھے کب پکارا نہیں جا رہا فراق اب سہارا نہیں جا رہا عجب بے کلی ہے پس عشق بھی یہ لمحہ گزارا نہیں جا رہا تحیر زدہ اک جہاں ہے مگر تجھی تک اشارہ نہیں جا رہا سر شوق منزل ہے وہ پیش و پس تھکن کو اتارا نہیں جا رہا تغیر کا ادراک

تجھے کب پکارا نہیں جا رہا Read More »

صحرا کو دریا سمجھا تھا

غزل صحرا کو دریا سمجھا تھا میں بھی تجھ کو کیا سمجھا تھا ہاتھ چھڑا کر جانے والے میں تجھ کو اپنا سمجھا تھا پھر جاؤں گا اپنی زباں سے کیا مجھ کو ایسا سمجھا تھا اتنی آنکھ تو مجھ میں بھی تھی دنیا کو دنیا سمجھا تھا میں نے تجھ کو منزل جانا تو

صحرا کو دریا سمجھا تھا Read More »

عجب پر لطف منظر دیکھتا رہتا ہوں بارش میں

غزل عجب پر لطف منظر دیکھتا رہتا ہوں بارش میں بدن جلتا ہے اور میں بھیگتا رہتا ہوں بارش میں صدائیں ڈوب جاتی ہیں ہوا کے شور میں اور میں گلی کوچوں میں تنہا چیختا رہتا ہوں بارش میں دریچے میں در آتے ہیں بہت سے مہرباں چہرے میں ان پر شوخ جملے پھینکتا رہتا

عجب پر لطف منظر دیکھتا رہتا ہوں بارش میں Read More »

سنو اب ہم محبت میں بہت آگے نکل آئے

غزل سنو اب ہم محبت میں بہت آگے نکل آئے کہ اک رستے پہ چلتے چلتے سو رستے نکل آئے اگرچہ کم نہ تھی، چارہ گران شہر کی پرسش مگر! کچھ زخم نا دیدہ بہت گہرے نکل آئے محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتی ہمارے درمیاں یہ فاصلے، کیسے نکل آئے بہت

سنو اب ہم محبت میں بہت آگے نکل آئے Read More »