دشت وحشت کو فقط قیس ہی بھایا ہوا ہے
غزل دشت وحشت کو فقط قیس ہی بھایا ہوا ہے ہم نے بھی عشق کا آزار اٹھایا ہوا ہے سرکشی موج ہوا کی، یہ کہاں سمجھے گی کس مشقت سے دیا ہم نے جلایا ہوا ہے کیسے گلفام کہوں، کیسے ستارہ سمجھوں وہ بدن اور ہی مٹی کا بنایا ہوا ہے موج خوش بو کی […]
دشت وحشت کو فقط قیس ہی بھایا ہوا ہے Read More »