نظم دستک
نظم دستک تم نے پہلی دستک دی اور لوٹ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم یہ سوچ کے دل دروازہ وا کر بیٹھے شاید پھر تم قریہ قریہ گھومنے والی شوخ ہوا کا جھونکا نکلے تم کیا جانو ! پہلی دستک کیا ہوتی ہے دل دروازہ کب کھلتا ہے تم کیا جانو! دھیمی دھیمی […]
نظم دستک تم نے پہلی دستک دی اور لوٹ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم یہ سوچ کے دل دروازہ وا کر بیٹھے شاید پھر تم قریہ قریہ گھومنے والی شوخ ہوا کا جھونکا نکلے تم کیا جانو ! پہلی دستک کیا ہوتی ہے دل دروازہ کب کھلتا ہے تم کیا جانو! دھیمی دھیمی […]
غزل رقص کیا کبھی شور مچایا پہلی پہلی بارش میں، میں تھا میرا پاگل پن تھا پہلی پہلی بارش میں، ایک اکیلا میں ہی گھر میں خوفزدہ سا بیٹھا تھا، ورنہ شہر تو بھیگ رہا تھا پہلی پہلی بارش میں، آنے والے سبز دنوں کی سب شادابی اس سے ہے، آنکھوں نے جو منظر دیکھا
رقص کیا کبھی شور مچایا پہلی پہلی بارش میں، Read More »
غزل راکھ اڑتی ہوئی بالوں میں نظر آتی ہے عمر گزرے ہوئے سالوں میں نظر آتی ہے جب بھی کھولا ہے یہ ماضی کا دریچہ میں نے کوئی تصویر خیالوں میں نظر آتی ہے شام کے ساتھ جو جادو ہو نگاہوں کا تری شام ویسی مرے گالوں میں نظر آتی ہے بستی دل میں جہاں
راکھ اڑتی ہوئی بالوں میں نظر آتی ہے Read More »
غزل کیسے منظر ہیں جو ادراک میں آ جاتے ہیں جیسے موتی کسی پوشاک میں آ جاتے ہیں میں جھٹکتی ہوں سبھی ذہن سے یہ وہم و گماں پھر بھی اکثر یہ مری تاک میں آ جاتے ہیں جیسا بھیجا ہے مجھے آپ نے پیغام وفا ایسے نامے تو کئی ڈاک میں آ جاتے ہیں
کیسے منظر ہیں جو ادراک میں آ جاتے ہیں Read More »
غزل زندگی چپکے سے اک بات کہا کرتی ہے وقت کے ہاتھوں میں کب ڈور رہا کرتی ہے سرد سی شاموں میں چلتی ہے اداسی کی ہوا چاندنی رات بھی خاموش رہا کرتی ہے تم تو آئے ہو گلابوں کے لیے دیر کے بعد قریۂ جاں میں تو اب خاک اڑا کرتی ہے بے سبب
زندگی چپکے سے اک بات کہا کرتی ہے Read More »
غزل درد کا سمندر ہے صرف پار ہونے تک عشق کی حقیقت کے آشکار ہونے تک روز و شب کی گردش میں محو رقص رہتے ہیں خاک کے بگولے ہیں بس غبار ہونے تک خواہشوں کی خوشبو میں خواب خواب پھرتے تھے پالکی میں تاروں کی ہم سوار ہونے تک قربتوں کے جنگل میں دیر
درد کا سمندر ہے صرف پار ہونے تک Read More »
غزل جیسے خوشیوں میں غم نہیں ہوتے آگ پانی بہم نہیں ہوتے مدتوں ہم قریب رہتے ہیں فاصلے پھر بھی کم نہیں ہوتے زندگی بھر کے ساتھ میں اکثر ہم سفر ہم قدم نہیں ہوتے سانحے دل پہ جو گزرتے ہیں سب کے سب تو رقم نہیں ہوتے پوجا ہوتی ہے زندگی بھر کی چار
جیسے خوشیوں میں غم نہیں ہوتے Read More »
غزل مدتوں ہم سے ملاقات نہیں کرتے ہیں اب تو سائے بھی کوئی بات نہیں کرتے ہیں دشت حیراں کا پتہ آج بھی معلوم نہیں اب تو راہوں میں بھی ہم رات نہیں کرتے ہیں معبدوں میں جو جلاتے تھے دیے میرے لیے اب سر شام مناجات نہیں کرتے ہیں بانٹ دیتے ہیں سبھی خواب
مدتوں ہم سے ملاقات نہیں کرتے ہیں Read More »
غزل وہ میرے بارے میں ایسے بھی سوچتا کب تھا اگر میں عکس نہیں تھی وہ آئنہ کب تھا جو جوڑ دیتا تعلق کے سب روابط کو ہمارے بیچ کوئی ایسا سلسلہ کب تھا وہ زینہ زینہ مرے دل میں یوں اترتا گیا میں روک پاتی اسے مجھ میں حوصلہ کب تھا وہ خوش گمان
وہ میرے بارے میں ایسے بھی سوچتا کب تھا Read More »
غزل کبھی تم بھیگنے آنا مری آنکھوں کے موسم میں بنانا مجھ کو دیوانہ مری آنکھوں کے موسم میں برستا بھیگتا ہو جب کوئی لمحہ نگاہوں میں وہیں تم بھی ٹھہر جانا مری آنکھوں کے موسم میں کئی موسم گزارے ہیں انہوں نے دھوپ چھاؤں کے نیا موسم کوئی لانا مری آنکھوں کے موسم میں
کبھی تم بھیگنے آنا مری آنکھوں کے موسم میں Read More »