MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تجھے کب پکارا نہیں جا رہا

غزل

تجھے کب پکارا نہیں جا رہا
فراق اب سہارا نہیں جا رہا

عجب بے کلی ہے پس عشق بھی
یہ لمحہ گزارا نہیں جا رہا

تحیر زدہ اک جہاں ہے مگر
تجھی تک اشارہ نہیں جا رہا

سر شوق منزل ہے وہ پیش و پس
تھکن کو اتارا نہیں جا رہا

تغیر کا ادراک ہوتے ہوئے
نیا روپ دھارا نہیں جا رہا

نہیں دور تک، جیت کا شائبہ
مگر ہم سے ہارا نہیں جا رہا

خالد معین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم