MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ ہنس کے دیکھتی ہوتی تو اس سے بات کرتے

غزل

وہ ہنس کے دیکھتی ہوتی تو اس سے بات کرتے
کوئی امید بھی ہوتی تو اس سے بات کرتے

ہم اسٹیشن سے باہر آئے اس افسوس کے ساتھ
وہ لڑکی اجنبی ہوتی تو اس سے بات کرتے

ہمارے جام آدھی حوصلہ افزائی کر پائے
اگر اس نے بھی پی ہوتی تو اس سے بات کرتے

توجہ سے بہت شرماتی ہے آواز اپنی
اگر وہ سو رہی ہوتی تو اس سے بات کرتے

کسی سے بات کرنا اتنا مشکل بھی نہیں تھا
کسی نے بات کی ہوتی تو اس سے بات کرتے

یہ خاموشی بھی کیا ہے گفتگو کی انتہا ہے
کوئی بات ان کہی ہوتی تو اس سے بات کرتے

چراغ شرما

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم