MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اب چمن میں ہم نفس اور ہم زباں کوئی نہیں

غزل اب چمن میں ہم نفس اور ہم زباں کوئی نہیں ہم نشیں کوئی نہیں ہے راز داں کوئی نہیں کس سے حال دل کہیں کس کو سنائیں حال زار چارہ ساز درد دل سوز نہاں کوئی نہیں کل بھی میں تنہا رہا ہوں اور تنہا آج بھی کل وہاں کوئی نہ تھا اور اب […]

اب چمن میں ہم نفس اور ہم زباں کوئی نہیں Read More »

بحر الفت کا کہیں کوئی کنارا ہی نہیں

غزل بحر الفت کا کہیں کوئی کنارا ہی نہیں دشت فرقت کا دل افروز نظارا ہی نہیں اب نہ تڑپاؤ مجھے چارہ گری کی خاطر آ بھی جاؤ کہ مجھے ضبط کا یارا ہی نہیں میں نے پیمان وفا باندھ لیا ہے اس سے جس کو اک لمحہ مرا ساتھ گوارا ہی نہیں ملتے ہی

بحر الفت کا کہیں کوئی کنارا ہی نہیں Read More »

نگاہ شوق میں سودائے جستجو کیا ہے

غزل نگاہ شوق میں سودائے جستجو کیا ہے دل شکستہ میں اب اور آرزو کیا ہے نہیں ہے شرط کوئی ذوق مے کشی کے لیے نگاہ رند میں مے خانہ کیا سبو کیا ہے بہار شرط ہے گلشن میں زندگی کے لیے گلوں کے نام پہ تفریق رنگ و بو کیا ہے پیام امن و

نگاہ شوق میں سودائے جستجو کیا ہے Read More »

اپنے ہزار رنگ بدلنے لگی ہے شام

غزل اپنے ہزار رنگ بدلنے لگی ہے شام شعر و سخن سے آج بہلنے لگی ہے شام پھر اپنے رنگ و روپ بدلنے لگی ہے شام سوز غم فراق میں جلنے لگی ہے شام تنہائیوں کا شہر اب اس کا نصیب ہے جام شب فراق میں ڈھلنے لگی ہے شام آ جاؤ انتظار کے لمحوں

اپنے ہزار رنگ بدلنے لگی ہے شام Read More »

دیکھنے والے یہ بولے چشم ہائے یار کے

غزل دیکھنے والے یہ بولے چشم ہائے یار کے یہ تو مستانے ہیں شاید خانۂ خمار کے دل مرا شاید ہے شیداؤں میں تیر یار کے زخم ہائے دل مشابہ ہیں لب سوفار کے پار اتارا بحر نا پیدا کنار عشق سے صدقے جاؤں کیوں نہ تیری تیغ لنگر دار کے اٹھ سکا ہرگز کسی

دیکھنے والے یہ بولے چشم ہائے یار کے Read More »

ملا ملا کے نظر مسکرائے جاتے ہیں

غزل ملا ملا کے نظر مسکرائے جاتے ہیں وہ چشم مست کا جادو جگائے جاتے ہیں ہم اپنی مشق تصور کی دستگیری سے نقاب رخ سے کسی کے اٹھائے جاتے ہیں رقیب کیا ستم ناروا کہ سہہ نہ سکے کسی کی بزم میں ہم کیوں بلائے جاتے ہیں کسی کے ناز کی تصویر کھنچتی جاتی

ملا ملا کے نظر مسکرائے جاتے ہیں Read More »

خبر بیکس کی رنج و صدمہ و آلام لیتے ہیں

غزل خبر بیکس کی رنج و صدمہ و آلام لیتے ہیں مصیبت میں یہی احباب دامن تھام لیتے ہیں شہیدان جفا کی موت پر ماتم کا کیا موقع یہ زندان بلا سے چھٹ کے اب آرام لیتے ہیں غضب کا روح افزا دید کے قابل ہے وہ منظر ترے ہاتھوں سے ساقی جس گھڑی ہم

خبر بیکس کی رنج و صدمہ و آلام لیتے ہیں Read More »

دل کو شباب اک بت کافر کا بھا گیا

غزل دل کو شباب اک بت کافر کا بھا گیا جس دن کو ڈر رہے تھے ہم آخر وہ آ گیا اب دل سے شوق نالۂ عرش آشنا گیا ذوق کشیدن ستم ناروا گیا بتلائیں کیا کہ آیا وہ کیا اور کیا گیا آیا جو قہر بن کے تو بن کربلا گیا دم ضبط درد

دل کو شباب اک بت کافر کا بھا گیا Read More »

میرا لب خموش اگر التجا کرے

غزل میرا لب خموش اگر التجا کرے شاید تری نگاہ کرم اعتنا کرے اللہ زور بے اثری کا بھلا کرے یکساں ہے کوئی نالہ کرے یا دعا کرے دل اعتماد وعدۂ صبر آزما کرے کام اپنا تیری شوخیٔ طاقت ربا کرے اس کا شباب جوش پہ آئے خدا کرے دل زندگی سے ہاتھ اٹھا کر

میرا لب خموش اگر التجا کرے Read More »

مرا طرز بیان شوق بیباکانہ ہوتا ہے

غزل مرا طرز بیان شوق بیباکانہ ہوتا ہے عمل جو رند سے ہوتا ہے وہ رندانہ ہوتا ہے مری روداد میں مضمر ہے حال زندگی تیرا بیان عشق گویا حسن کا افسانہ ہوتا ہے نہیں ملتی ہے دم لینے کی مہلت شمع محفل کو ادھر پروانہ ہوتا ہے ادھر پروانہ ہوتا ہے حریف نرگس مستانہ

مرا طرز بیان شوق بیباکانہ ہوتا ہے Read More »