MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شگفتہ یادوں کا موسم بڑا سہانا لگے

غزل

شگفتہ یادوں کا موسم بڑا سہانا لگے
تمہیں بنا لوں میں اپنا اگر برا نہ لگے

وہ دے نہ پائے گا میری محبتوں کا جواب
اسے تو میرا ہر اک لفظ تازیانہ لگے

دعا یہی ہے مجھے بھول جاؤ تم ورنہ
تمہیں بھلانے میں مجھ کو بہت زمانہ لگے

قبا گلوں کی بہاروں میں چاک چاک ہے کیوں
ہوائے صحن چمن مجھ کو باغیانہ لگے

جلاؤں گا میں ہواؤں کی زد پہ اب بھی دیے
یہ عزم چاہے زمانے کو خود سرانہ لگے

سنا چکے سبھی روداد غم انہیں بسملؔ
اب ایسا گیت سناؤ جو دلبرانہ لگے

بسمل اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم