MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

 افسانہ مجسمہ محمد امین الدین

 افسانہ مجسمہ محمد امین الدین   مددگاروں کو رخصت کرنے کے بعد ایقان دیر تک سنگِ مر مر کو چاروں طرف سے دیکھتا رہا۔ اسے یقین تھا کہ وہ اس چٹان کو اپنے حسین تصورات کا روپ دینے میں ضرور کامیاب ہوگا۔ اسی دوران اس کے کانوں سے آواز ٹکرائی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ […]

 افسانہ مجسمہ محمد امین الدین Read More »

بیدی کا فن تحریر محمد حسن

بیدی کا فن تحریر محمد حسن بیدؔی کا فن، رمزیت، تہہ داری اور مدھم لب و لہجے کا فن ہے۔ تہہ داری اور رمزیت نفسیانی دروں بینی سے پیدا ہوتی ہے اور اس نفسیاتی دروں بینی کو دانش عصر کی سب سے بڑی دین کہا گیا ہے جو رحمت بھی ہے اور زحمت بھی۔ فکری

بیدی کا فن تحریر محمد حسن Read More »

اردو ڈرامے کی ادبی سماجیات محمد حسن

اردو ڈرامے کی ادبی سماجیات محمد حسن   ڈراما صرف لکھا نہیں جاسکتا اس کی جڑیں جب تک تہذیبی اظہار میں پیوست نہ ہوں اس وقت تک اس کا ارتقا ممکن نہیں۔ ہندوستان میں کلاسیکی ڈرامے کی روایات تابناک ہیں، لیکن اردو نے مدتوں اس عظیم الشان روایت سے رشتہ نہیں جوڑا اس کی بہت

اردو ڈرامے کی ادبی سماجیات محمد حسن Read More »

امراؤ جان ادا   تحریر محمد مجیب

امراؤ جان ادا تحریر محمد مجیب پچیس برس پہلے کی بات ہے کہ میں نے ایک ادبی رسالے میں مرزا رسوا کے ناول ’’امراؤ جان ادا‘‘ پرایک تبصرہ پڑھا۔ اسے پڑھ کر مجھے حیرت ہوئی۔ یہ ناول ایک طوائف کی داستان حیات ہے۔ مجھے جس پر حیر ت ہوئی وہ تھی تبصرہ نگار کی بے

امراؤ جان ادا   تحریر محمد مجیب Read More »

ظفر گورکھ پوری غزل کے ماتھے کا جھومر ظفر کیا تھے کون تھے ایک تحقیق

ظفر گورکھ پوری غزل کے ماتھے کا جھومر ظفر کیا تھے کون تھے ایک تحقیق کتنی آسانی سے مشہور کیا ہے خود کو میں نے اپنے سے بڑے شخص کو گالی دے کر ظفرالدین ظفر گورکھپوری کی پیدائش 5 مئی 1935ء کوبیدولی بابو بانس گاؤں (ضلع گورکھپور) میں ہوئی۔ 1944 ء میں اپنے والد صاحب

ظفر گورکھ پوری غزل کے ماتھے کا جھومر ظفر کیا تھے کون تھے ایک تحقیق Read More »

جو آئے وہ حساب آب و دانہ کرنے والے تھے

غزل جو آئے وہ حساب آب و دانہ کرنے والے تھے گئے وہ لوگ جو کار زمانہ کرنے والے تھے اڑانے کے لیے کچھ کم نہیں ہے خاک گھر میں بھی وہ موسم ہی نہیں ہیں جو دوانہ کرنے والے تھے مری گم گشتگی میرے لیے چھت بن گئی ورنہ یہ دنیا والے مجھ کو

جو آئے وہ حساب آب و دانہ کرنے والے تھے Read More »

بیچ منجدھار دیا بڑھ کے سہارا کس نے

غزل بیچ منجدھار دیا بڑھ کے سہارا کس نے ہم تو تنہا تھے ہمیں پار اتارا کس نے زندگی تجھ کو شب و روز کے دوزخ میں ترے جس طرح ہم نے گزارا ہے گزارا کس نے حال اب یہ کہ اندھیرا مرے خوں کا پیاسا رکھ دیا ہے مری مٹھی میں ستارہ کس نے

بیچ منجدھار دیا بڑھ کے سہارا کس نے Read More »

نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھا

غزل نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھا نہ بھر سکا کوئی اس کو خلا ہی ایسا تھا وہ مجھ میں رہ کے مجھے کاٹتا رہا پل پل زباں پہ آ نہ سکا ماجرا ہی ایسا تھا نظر نہ آئی کہیں دور دور تک کوئی موج میں غرق ہو گیا طوفاں اٹھا ہی ایسا

نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھا Read More »

کون یاد آیا یہ مہکاریں کہاں سے آ گئیں

غزل کون یاد آیا یہ مہکاریں کہاں سے آ گئیں دشت میں خوشبو کی بوچھاریں کہاں سے آ گئیں کیسی شب ہے ایک اک کروٹ پہ کٹ جاتا ہے جسم میرے بستر میں یہ تلواریں کہاں سے آ گئیں خواب شاید پھر ہوا آنکھوں میں کوئی سنگسار زیر مژگاں خون کی دھاریں کہاں سے آ

کون یاد آیا یہ مہکاریں کہاں سے آ گئیں Read More »

زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا

غزل زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا تجھے ایسا کشادہ آسماں کوئی نہیں دے گا ابھی زندہ ہیں ہم پر ختم کر لے امتحاں سارے ہمارے بعد کوئی امتحاں کوئی نہیں دے گا جو پیاسے ہو تو اپنے ساتھ رکھو اپنے بادل بھی یہ دنیا ہے وراثت میں کنواں کوئی نہیں

زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا Read More »