MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مرا قلم مرے جذبات مانگنے والے

غزل مرا قلم مرے جذبات مانگنے والے مجھے نہ مانگ مرا ہاتھ مانگنے والے یہ لوگ کیسے اچانک امیر بن بیٹھے یہ سب تھے بھیک مرے ساتھ مانگنے والے تمام گاؤں ترے بھولپن پہ ہنستا ہے دھوئیں کے ابر سے برسات مانگنے والے نہیں ہے سہل اسے کاٹ لینا آنکھوں میں کچھ اور مانگ مری […]

مرا قلم مرے جذبات مانگنے والے Read More »

بلندی سے اتارے جا چکے ہیں

غزل بلندی سے اتارے جا چکے ہیں زمیں پر لا کے مارے جا چکے ہیں دکھائے بیچ دریا کون رستہ فلک خالی ہے تارے جا چکے ہیں معانی کیا رہے خودداریوں کے کہ دامن تو پسارے جا چکے ہیں یہ پورا سچ ہے تم مانو نہ مانو کہ اچھے دن تمہارے جا چکے ہیں بھنک

بلندی سے اتارے جا چکے ہیں Read More »

تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کی

غزل تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کی اس نے بھی سوچا بہت ہم نے بھی عجلت نہیں کی تو نے جو درد کی دولت ہمیں دی تھی اس میں کچھ اضافہ ہی کیا ہم نے خیانت نہیں کی زاویہ کیا ہے جو کرتا ہے تجھے سب سے الگ کیوں ترے بعد کسی اور

تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کی Read More »

ارادہ ہو اٹل تو معجزہ ایسا بھی ہوتا ہے

غزل ارادہ ہو اٹل تو معجزہ ایسا بھی ہوتا ہے دیے کو زندہ رکھتی ہے ہوا ایسا بھی ہوتا ہے سنائی دے نہ خود اپنی صدا ایسا بھی ہوتا ہے میاں تنہائی کا اک سانحہ ایسا بھی ہوتا ہے چھڑے ہیں تار دل کے خانہ بربادی کے نغمے ہیں ہمارے گھر میں صاحب رت جگا

ارادہ ہو اٹل تو معجزہ ایسا بھی ہوتا ہے Read More »

پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو

غزل پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو خود اپنے شور میں گم آدمی سے چاہتے کیا ہو یہ آنکھوں میں جو کچھ حیرت ہے کیا وہ بھی تمہیں دے دیں بنا کر بت ہمیں اب خامشی سے چاہتے کیا ہو نہ اطمینان سے بیٹھو نہ گہری نیند سو پاؤ میاں اس مختصر

پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو Read More »

بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا

غزل بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا میں سورج بن کے اک دن اپنی پیشانی سے نکلوں گا نظر آ جاؤں گا میں آنسوؤں میں جب بھی روؤگے مجھے مٹی کیا تم نے تو میں پانی سے نکلوں گا تم آنکھوں سے مجھے جاں کے سفر کی مت اجازت دو اگر

بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا Read More »

عشق میں کیا کیا میرے جنوں کی کی نہ برائی لوگو نے

غزل عشق میں کیا کیا میرے جنوں کی کی نہ برائی لوگو نے کچھ تم نے بدنام کیا کچھ آگ لگائیں لوگو نے میرے لہو کے رنگ سے چمکی مہندی کتنے ہاتھوں پر شہر میں جس دن قتل ہوا میں عید منائی لوگو نے ہم ہی ان کو بام پے لائے اور ہم ہی محروم

عشق میں کیا کیا میرے جنوں کی کی نہ برائی لوگو نے Read More »

دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں

غزل دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں سایہ آتے ہوئے ڈرتا ہے مرے کمرے میں غم تھکا ہارا مسافر ہے چلا جائے گا کچھ دنوں کے لیے ٹھہرا ہے مرے کمرے میں صبح تک دیکھنا افسانہ بنا ڈالے گا تجھ کو اک شخص نے دیکھا ہے مرے کمرے میں در بہ در

دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں Read More »

دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے

غزل دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے اک آدمی تو شہر میں ایسا دکھائی دے اب بھیک مانگنے کے طریقے بدل گئے لازم نہیں کہ ہاتھ میں کاسہ دکھائی دے نیزے پہ رکھ کے اور مرا سر بلند کر دنیا کو اک چراغ تو جلتا دکھائی دے دل میں ترے خیال کی بنتی

دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے Read More »

میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیے

غزل میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیے بن گئی ہے مسئلہ سارے زمانے کے لیے ریت میری عمر میں بچہ نرالے میرے کھیل میں نے دیواریں اٹھائی ہیں گرانے کے لیے وقت ہونٹوں سے مرے وہ بھی کھرچ کر لے گیا اک تبسم جو تھا دنیا کو دکھانے کے لیے آسماں

میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیے Read More »