MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یوں تو ہمارے شہر میں قانون بھی نہیں

غزل یوں تو ہمارے شہر میں قانون بھی نہیں قانون کا سرے سے مگر خون بھی نہیں معیار شعر میرا نہ تم جانچ پاؤ گے اقدار اگر نہیں ہے تو شب خون بھی نہیں یوں تو کوئی شریف بلاتا نہیں مجھے لیکن میں سارے شہر میں مطعون بھی نہیں میں جس کا بوجھ سر پہ […]

یوں تو ہمارے شہر میں قانون بھی نہیں Read More »

ہر ایک چہرہ یہاں درد کی کتاب لگے

غزل ہر ایک چہرہ یہاں درد کی کتاب لگے تمہارا شہر تو اک شہر اضطراب لگے یہ کور چشمی ہے یا جلتے سورجوں کا اثر کوئی بھی شکل نہ اب بنت ماہتاب لگے نہ جانے کیوں مرا لہجہ ہے سخت سخت اتنا کہ التماس کا انداز بھی عتاب لگے یہ بانجھ بانجھ سے بادل یہ

ہر ایک چہرہ یہاں درد کی کتاب لگے Read More »

حیات ڈھونڈ رہا ہوں قضا کی راہوں میں

غزل حیات ڈھونڈ رہا ہوں قضا کی راہوں میں پناہ مانگنے آیا ہوں بے پناہوں میں بدن ممی تھا نظر برف سانس کافوری تمام رات گزاری ہے سرد بانہوں میں اب ان میں شعلے جہنم کے رقص کرتے ہیں بسے تھے کتنے ہی فردوس جن نگاہوں میں بجھی جو رات تو اپنی گلی کی یاد

حیات ڈھونڈ رہا ہوں قضا کی راہوں میں Read More »

میری آواز سے آواز ملانے والے

غزل میری آواز سے آواز ملانے والے ہیں کہاں شہر میں طوفان اٹھانے والے پھر ستاروں کی چمک ماند پڑی جاتی ہے پھر برہنہ ہوں کھڑا زخم لگانے والے زرد شہروں میں پرندوں نے پناہیں ڈھونڈیں سبز جنگل میں نیا جال بچھانے والے روندتا ہے مجھے کیوں نقش قدم کی صورت میری پہچان ہے کیا

میری آواز سے آواز ملانے والے Read More »

دل و جاں کے فسانے کیا ہوئے سب

غزل دل و جاں کے فسانے کیا ہوئے سب محبت کے ترانے کیا ہوئے سب یہاں کچھ صوفیوں کا گھر تھا پہلے وہ ان کے آستانے کیا ہوئے سب پرانا پیڑ برگد کا کہاں ہے پرندوں کے ٹھکانے کیا ہوئے سب کہاں ہیں شہر کے بے فکر بچے مسرت کے خزانے کیا ہوئے سب برستی

دل و جاں کے فسانے کیا ہوئے سب Read More »

گم شدہ موسم کا آنکھوں میں کوئی سپنا سا تھا

غزل گم شدہ موسم کا آنکھوں میں کوئی سپنا سا تھا بادلوں کے اڑتے ٹکڑوں میں ترا چہرا سا تھا پھر کبھی مل جائے شاید زندگی کی بھیڑ میں جس کی باتیں پیاری تھیں اور نام کچھ اچھا سا تھا جاں بلب ہونے لگا ہے پیاس کی شدت سے وہ خشک ریگستان میں اک شخص

گم شدہ موسم کا آنکھوں میں کوئی سپنا سا تھا Read More »

ٹپکتے شعلوں کی برسات میں نہاؤں گا

غزل ٹپکتے شعلوں کی برسات میں نہاؤں گا اب آ گیا ہوں تو اس شہر سے نہ جاؤں گا کشش ہے گھر میں نہ باہر کی رونقیں باقی یونہی رہا تو کہاں جا کے مسکراؤں گا یہ گیلی گیلی سی خوشبو یہ نرم نرم نگاہ تمہارے پاس رہا میں تو بھیگ جاؤں گا بسا سکو

ٹپکتے شعلوں کی برسات میں نہاؤں گا Read More »

جو جھک کے ملتے تھے جلسوں میں مہرباں کی طرح

غزل جو جھک کے ملتے تھے جلسوں میں مہرباں کی طرح ہوئے ہیں سر پہ مسلط وہ آسماں کی طرح مجھے جو کھولو تو ساحل قریب کر دوں گا سمندروں میں میں رہتا ہوں بادباں کی طرح تمہارے شہر کے جبری نظام میں کچھ لوگ کبھی ہنسے بھی تو آواز تھی فغاں کی طرح ہے

جو جھک کے ملتے تھے جلسوں میں مہرباں کی طرح Read More »

زہر پیے مدہوش اندھیری رات

غزل زہر پیے مدہوش اندھیری رات ناگن سی خاموش اندھیری رات دن کی صورت مجھ کو بھی کھا جا آ کر میں بھی ہوں بے ہوش اندھیری رات شہروں میں خاموشی ہی خاموشی تھی طوفاں تھا پرجوش اندھیری رات کیا جانے کس نے اوڑھا میرا پیکر میں خواب خرگوش اندھیری رات چاندی جیسی کرنیں مجھ

زہر پیے مدہوش اندھیری رات Read More »

باغ دل میں کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعد

غزل باغ دل میں کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعد بھول کر آئی نہ اس سمت صبا تیرے بعد تیری زلفوں کی مہک تیرے بدن کی خوشبو ڈھونڈھتی پھرتی ہے اک پگلی ہوا تیرے بعد وہی میلے وہی پنگھٹ وہی جھولے وہی گیت گاؤں میں پر کوئی تجھ سا نہ ملا تیرے بعد اندھی راتوں

باغ دل میں کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعد Read More »