یوں تو ہمارے شہر میں قانون بھی نہیں
غزل یوں تو ہمارے شہر میں قانون بھی نہیں قانون کا سرے سے مگر خون بھی نہیں معیار شعر میرا نہ تم جانچ پاؤ گے اقدار اگر نہیں ہے تو شب خون بھی نہیں یوں تو کوئی شریف بلاتا نہیں مجھے لیکن میں سارے شہر میں مطعون بھی نہیں میں جس کا بوجھ سر پہ […]
یوں تو ہمارے شہر میں قانون بھی نہیں Read More »