MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہ حکایت تمام کو پہنچی

غزل یہ حکایت تمام کو پہنچی زندگی اختتام کو پہنچی رقص کرتی ہوئی نسیم سحر صبح تیرے سلام کو پہنچی روشنی ہو رہی ہے کچھ محسوس کیا شب آخر تمام کو پہنچی شب کو اکثر کلید مے خانہ شیخ عالی مقام کو پہنچی شہر کب سے حصار درد میں ہے یہ خبر اب عوام کو […]

یہ حکایت تمام کو پہنچی Read More »

میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے

غزل میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے تری انا مری زنجیر پا نہ ہو جائے یہ جیتی جاگتی آنکھیں یہ خواب سی دنیا وفور شوق خود اپنی جزا نہ ہو جائے قدم قدم پہ بپا جشن امتحان وفا تری طرح کوئی درد آشنا نہ ہو جائے نہ دیکھ مجھ کو محبت کی

میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے Read More »

میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے

غزل میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے تری انا مری زنجیر پا نہ ہو جائے یہ جیتی جاگتی آنکھیں یہ خواب سی دنیا وفور شوق خود اپنی جزا نہ ہو جائے قدم قدم پہ بپا جشن امتحان وفا تری طرح کوئی درد آشنا نہ ہو جائے نہ دیکھ مجھ کو محبت کی

میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے Read More »

ہنگامۂ ہستی سے گزر کیوں نہیں جاتے

غزل ہنگامۂ ہستی سے گزر کیوں نہیں جاتے رستے میں کھڑے ہو گئے گھر کیوں نہیں جاتے مے خانے میں شکوہ ہے بہت تیرہ شبی کا مے خانے میں با دیدۂ تر کیوں نہیں جاتے اب جبہ و دستار کی وقعت نہیں باقی رندوں میں بہ انداز دگر کیوں نہیں جاتے جس شہر میں گمراہی

ہنگامۂ ہستی سے گزر کیوں نہیں جاتے Read More »

آگ سی لگ رہی ہے سینے میں

غزل آگ سی لگ رہی ہے سینے میں اب مزا کچھ نہیں ہے جینے میں آخری کشمکش ہے یہ شاید موج دریا میں اور سفینے میں زندگی یوں گزر گئی جیسے لڑکھڑاتا ہو کوئی زینے میں دل کا احوال پوچھتے کیا ہو خاک اڑتی ہے آبگینے میں کتنے ساون گزر گئے لیکن کوئی آیا نہ

آگ سی لگ رہی ہے سینے میں Read More »

زد پہ آ جائے گا جو کوئی تو مر جائے گا

غزل زد پہ آ جائے گا جو کوئی تو مر جائے گا وقت کا کام گزرنا ہے گزر جائے گا خود اسے بھی نہیں معلوم ہے منزل اپنی جانے والے سے نہ پوچھو وہ کدھر جائے گا آج اندھیرا ہے تو کل کوئی چراغ امید مطلع وقت پہ سورج سا نکھر جائے گا اس طرف

زد پہ آ جائے گا جو کوئی تو مر جائے گا Read More »

نظم اور پورا آدمی سلیم احمد

ئی نظم اور پورا آدمی: سلیم احمد عورت کی طرح شاعری بھی پورا آدمی مانگتی ہے۔ آپ عورت کو خوب صورت الفاظ سے خوش نہیں کرسکتے۔ صرف زیور، کپڑے اور نان ونفقے سے بھی نہیں۔ یہاں تک کہ صرف اس کام سے بھی نہیں جسے محبت کہتے ہیں اور جس کی حمدوتقدیس شاعری کا ازلی

نظم اور پورا آدمی سلیم احمد Read More »

چراغ جب میرا کمرہ ناپتا ہے سارا شگفتہ

چراغ جب میرا کمرہ ناپتا ہے سارا شگفتہ چراغ نے پھول کو جنم دینا شروع کر دیا ہے دور بہت دور میرا جنم دن رہتا ہے آنگن میں دھوپ نہ آئے تو سمجھو تم کسی غیر آباد علاقے میں رہتے ہو مٹی میں میرے بدن کی ٹوٹ پھوٹ پڑی ہے ہمارے خوابوں میں چاپ کون

چراغ جب میرا کمرہ ناپتا ہے سارا شگفتہ Read More »

قرض سارا شگفتہ

قرض سارا شگفتہ میرا باپ ننگا تھا میں نے اپنے کپڑے اتار کر اسے دے دئے زمین بھی ننگی تھی میں نے اسے اپنے مکان سے داغ دیا شرم بھی ننگی تھی میں نے اسے آنکھیں دیں پیاس کو لمس دئے اور ہونٹوں کی کیاری میں جانے والے کو بو دیا موسم چاند لیے پھر

قرض سارا شگفتہ Read More »

اے میرے سر سبز خدا سارا شگفتہ

اے میرے سر سبز خدا سارا شگفتہ بین کرنے والوں نے مجھے ادھ کھلے ہاتھ سے قبول کیا انسان کے دو جنم ہیں پھر شام کا مقصد کیا ہے میں اپنی نگرانی میں رہی اور کم ہوتی چلی گئی کتوں نے جب چاند دیکھا اپنی پوشاک بھول گئے میں ثابت قدم ہی ٹوٹی تھی اب

اے میرے سر سبز خدا سارا شگفتہ Read More »