یہ حکایت تمام کو پہنچی
غزل یہ حکایت تمام کو پہنچی زندگی اختتام کو پہنچی رقص کرتی ہوئی نسیم سحر صبح تیرے سلام کو پہنچی روشنی ہو رہی ہے کچھ محسوس کیا شب آخر تمام کو پہنچی شب کو اکثر کلید مے خانہ شیخ عالی مقام کو پہنچی شہر کب سے حصار درد میں ہے یہ خبر اب عوام کو […]
یہ حکایت تمام کو پہنچی Read More »