MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ڈوبا ہوا ہوں درد کی گہرائیوں میں بھی

غزل

ڈوبا ہوا ہوں درد کی گہرائیوں میں بھی
میں خندہ زن ہوں کھوکھلی دانائیوں میں بھی

عریاں ہے سارا شہر چلی یوں ہوس کی لہر
تجھ کو چھپا رہا ہوں میں تنہائیوں میں بھی

کیسے تھے لوگ جن کی زبانوں میں نور تھا
اب تو تمام جھوٹ ہے سچائیوں میں بھی

اب نیک نامیوں میں بھی کوئی مزا نہیں
پہلے تو ایک لطف تھا رسوائیوں میں بھی

وہ دوڑ ہے کسی کو کسی کی خبر نہیں
اب کتنی غیریت ہے شناسائیوں میں بھی

رنگین ساعتوں میں کہاں وہ ملاحتیں
پرچھائیوں کا جال ہے رعنائیوں میں بھی

ہم جن کے واسطے تھے تماشا بنے ہوئے
دیکھا تو وہ نہیں تھے تماشائیوں میں بھی

میں ہی تھا وہ جو اپنے ہی تیشے سے مر گیا
ہی ہی تھا شہر جبر کے بلوائیوں میں بھی

کیا دور ہے کہ جس میں صدا بھی سکوت ہے
تنہائیاں ہیں انجمن آرائیوں میں بھی

وہ پیار دو کہ جس کی چمک ماند ہی نہ ہو
ہوتا ہے یہ خلوص تو ہرجائیوں میں بھی

ساز و صدا کے شور میں گم ہو گیا جمیلؔ
کس کس کے دل کا درد تھا شہنائیوں میں بھی

جمیل ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم