MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اس نے جانے کی کہی ہو جیسے

غزل اس نے جانے کی کہی ہو جیسے کوئی آندھی سی چلی ہو جیسے آج کچھ ایسی تھکن ہے مجھ کو رات آنکھوں میں کٹی ہو جیسے پھر مری آنکھ سے آنسو ٹپکا کوئی امید بندھی ہو جیسے آج ہنسنے کو بہت جی چاہے دل پہ اک چوٹ لگی ہو جیسے تجھ سے مل کر […]

اس نے جانے کی کہی ہو جیسے Read More »

اب کے حصار ذات سے باہر نکل کے دیکھ

غزل اب کے حصار ذات سے باہر نکل کے دیکھ شہر گلاب میں کبھی کانٹوں پہ چل کے دیکھ جو بھی ہے جیسا اس کو اسی طرز سے پرکھ اس کو بدل کے دیکھ نہ خود کو بدل کے دیکھ اوروں کی آگ کیا تجھے کندن بنائے گی اپنی بھی آگ میں کبھی چپ چاپ

اب کے حصار ذات سے باہر نکل کے دیکھ Read More »

ایک جلوہ بصد انداز نظر دیکھ لیا

غزل ایک جلوہ بصد انداز نظر دیکھ لیا تجھ کو ہی دیکھا کئے تجھ کو اگر دیکھ لیا جیسے سر پھوڑ کے مل جائے گی زنداں سے نجات کیا جنوں نے کوئی دیوار میں در دیکھ لیا باز ہے آج تلک دیدۂ حیراں کی طرح دشت وحشت نے کسے خاک بسر دیکھ لیا جرم نظارہ

ایک جلوہ بصد انداز نظر دیکھ لیا Read More »

آغاز گل ہے شوق مگر تیز ابھی سے ہے

غزل آغاز گل ہے شوق مگر تیز ابھی سے ہے یعنی ہوائے باغ جنوں خیز ابھی سے ہے جوش طلب ہی موجب درماندگی نہ ہو منزل ہے دور اور قدم تیز ابھی سے ہے کیا ارتباط حسن و محبت کی ہو امید وہ جان شوق ہم سے کم آمیز ابھی سے ہے ترتیب کارواں میں

آغاز گل ہے شوق مگر تیز ابھی سے ہے Read More »

دھومیں مچائیں سبزہ روندیں پھولوں کو پامال کریں

غزل دھومیں مچائیں سبزہ روندیں پھولوں کو پامال کریں جوش جنوں کا یہ عالم ہے اب کیا اپنا حال کریں دشت جاں میں ایک خوشی کی لہر کہاں تک دوڑے گی وصل کے اک اک لمحے کو ہم کیوں کر ماہ و سال کریں جان سے بڑھ کر دل ہے پیارا دل سے زیادہ جان

دھومیں مچائیں سبزہ روندیں پھولوں کو پامال کریں Read More »

مہ و پرویں تہ کمند رہے

غزل مہ و پرویں تہ کمند رہے کن فضاؤں میں ہم بلند رہے غم ہستی سے بے نیاز سہی اہل دل پھر بھی درد مند رہے چشم عقدہ کشا سے بھی نہ کھلے ہم کچھ اس طرح بند بند رہے بر سر دار ہم سہی لیکن حرف حق کی طرح بلند رہے حسن کی خود

مہ و پرویں تہ کمند رہے Read More »

بہت جبین و رخ و لب بہت قد و گیسو

غزل بہت جبین و رخ و لب بہت قد و گیسو طلب ہے شرط سکوں کے ہزار ہا پہلو جو بے خودی ہے سلامت تو مل ہی جائے گا برائے فرصت اندیشہ یار کا زانو ہزار دشت بلا حلقۂ اثر میں ہیں مرا جنوں ہے کہ چشم غزال کا جادو یہ راز کھول دیا تیری

بہت جبین و رخ و لب بہت قد و گیسو Read More »

شرمندہ ہم جنوں سے ہیں اک ایک تار کے

غزل شرمندہ ہم جنوں سے ہیں اک ایک تار کے کیا کیجیے کہ دن ہیں ابھی تک بہار کے اے عمر شوق دیکھیے ملتا ہے کیا جواب ہم نے کسی کا نام لیا ہے پکار کے سرگشتۂ الم ہو کہ شوریدہ سر کوئی احساں ہیں اہل شوق پہ دیوار یار کے اللہ رے انتظار بہاراں

شرمندہ ہم جنوں سے ہیں اک ایک تار کے Read More »

یوں نقاب رخ مقابل سے اٹھی

غزل یوں نقاب رخ مقابل سے اٹھی چشم صد نظارہ مشکل سے اٹھی بازگشت شور غرقابی سہی کوئی تو آواز ساحل سے اٹھی قافلے ہیں کتنے درماندہ خرام گرد راہوں سے نہ منزل سے اٹھی تھام کر دل کیا اٹھے ارباب درد اک قیامت تیری محفل سے اٹھی سر سے بھی گزری ہے طوفاں کی

یوں نقاب رخ مقابل سے اٹھی Read More »

سب غم کہیں جسے کہ تمنا کہیں جسے

غزل سب غم کہیں جسے کہ تمنا کہیں جسے وہ اضطراب شوق ہے ہم کیا کہیں جسے ہے جہد منفرد سبب کاروبار دہر اک اضطراب قطرہ ہے دریا کہیں جسے نعمت کا اعتبار ہے حسن قبول سے عشرت بھی ایک غم ہے گوارا کہیں جسے ملتا نہیں ہے اہل جنوں کا کوئی سراغ بس ایک

سب غم کہیں جسے کہ تمنا کہیں جسے Read More »