MOJ E SUKHAN

ایک جلوہ بصد انداز نظر دیکھ لیا

غزل

ایک جلوہ بصد انداز نظر دیکھ لیا
تجھ کو ہی دیکھا کئے تجھ کو اگر دیکھ لیا

جیسے سر پھوڑ کے مل جائے گی زنداں سے نجات
کیا جنوں نے کوئی دیوار میں در دیکھ لیا

باز ہے آج تلک دیدۂ حیراں کی طرح
دشت وحشت نے کسے خاک بسر دیکھ لیا

جرم نظارہ کی پاتا ہے سزا دل اب تک
اہل دل دیکھ لیا اہل نظر دیکھ لیا

صورت نقش قدم دیدۂ مشتاق ہیں ہم
جب بھی وہ آیا سر راہ گزر دیکھ لیا

یہی حسرت ہے کہ وہ ایک نظر دیکھ تو لے
اور اس نے کبھی اس سمت اگر دیکھ لیا

کہیں پردہ ہے تجلی کہیں جلوہ ہے حجاب
یہ تماشا بھی ترا ذوق نظر دیکھ لیا

روز اک تازہ غم دہر ہے نازل تابشؔ
ایک طوفان بلا نے مرا گھر دیکھ لیا

تابش دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم