ساحل نہ کوئی اب کے مری دسترس میں تھا
غزل ساحل نہ کوئی اب کے مری دسترس میں تھا طوفان کون سا مری موج نفس میں تھا مجبوریوں کے ڈھونڈھ کے لایا تھا وہ جواز مجھ سے بچھڑتے وقت مگر پیش و پس میں تھا لو دے رہا تھا مجھ میں اندھیروں کے باوجود شاید کوئی شرار جو شمع نفس میں تھا کس طرح […]
ساحل نہ کوئی اب کے مری دسترس میں تھا Read More »