MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ساحل نہ کوئی اب کے مری دسترس میں تھا

غزل ساحل نہ کوئی اب کے مری دسترس میں تھا طوفان کون سا مری موج نفس میں تھا مجبوریوں کے ڈھونڈھ کے لایا تھا وہ جواز مجھ سے بچھڑتے وقت مگر پیش و پس میں تھا لو دے رہا تھا مجھ میں اندھیروں کے باوجود شاید کوئی شرار جو شمع نفس میں تھا کس طرح […]

ساحل نہ کوئی اب کے مری دسترس میں تھا Read More »

بہا کے بستی کو مطلع جو کھل گیا سائیں

غزل بہا کے بستی کو مطلع جو کھل گیا سائیں قبول ہو گئی کہتے ہو وہ دعا سائیں سو اتنا حبس بڑھایا گیا کہ پھر آخر چراغ دے کے خریدی گئی ہوا سائیں یہ کن خطوط پہ دیوار ہم نے کھینچی ہے کوئی برا نہیں ہم میں نہیں بھلا سائیں قطع ہوئی ہیں زبانیں کہ

بہا کے بستی کو مطلع جو کھل گیا سائیں Read More »

کسی ہجر کا کسی قرب کا کوئی سلسلہ جو گزر گیا

غزل کسی ہجر کا کسی قرب کا کوئی سلسلہ جو گزر گیا مری منزلوں کی نوید تھا وہی راستہ جو گزر گیا کسے وقت تھا جسے دیکھ کر کوئی سوچتا کوئی پوچھتا وہی ایک چھوٹا سا سانحہ پس واقعہ جو گزر گیا وہی اصل متن حیات تھا وہی لفظ روح ثبات تھا کسی سرسری سی

کسی ہجر کا کسی قرب کا کوئی سلسلہ جو گزر گیا Read More »

ہے دوست کوئی یا مرا قاتل کوئی تو ہے

غزل ہے دوست کوئی یا مرا قاتل کوئی تو ہے خوش ہوں کہ میرا مد مقابل کوئی تو ہے جوں ہی میں ڈوبی بھیڑ کنارے پہ لگ گئی اس لاش کے لیے چلو ساحل کوئی تو ہے در کھل گیا قفس کا پہ صیاد کیا کریں پاؤں میں اب بھی طوق سلاسل کوئی تو ہے

ہے دوست کوئی یا مرا قاتل کوئی تو ہے Read More »

کوئی بڑھ کر ستم مجھ پر ستم ایجاد کیا کرتا

غزل کوئی بڑھ کر ستم مجھ پر ستم ایجاد کیا کرتا بسایا ہی نہیں جس کو اسے برباد کیا کرتا سکھایا بولنا اس کو زبان بے زبانی سے اگر لب کھول لیتی میں وہ پھر ارشاد کیا کرتا کہاں قد ناپتا میرا بھلا یہ شعر کم قامت سو میرا شعر بھی پا کر سیاسی داد

کوئی بڑھ کر ستم مجھ پر ستم ایجاد کیا کرتا Read More »

ہر حبس کے موسم میں گزر میں نے کیا ہے

غزل   ہر حبس کے موسم میں گزر میں نے کیا ہے آندھی میں دیا لے کے سفر میں نے کیا ہے ڈالا کہاں ہتھیار کبھی میری انا نے ہر جنگ میں اس کو ہی سپر میں نے کیا ہے اک ایسا سفر بھی تھا مری راہ میں آیا بے منزل و مقصد تھا مگر

ہر حبس کے موسم میں گزر میں نے کیا ہے Read More »

قلم کو خون میں غرقاب دیکھتے جاؤ

غزل قلم کو خون میں غرقاب دیکھتے جاؤ زمین شعر کو شاداب دیکھتے جاؤ نگاہ ہوتے ہوئے سیل خوں پہ چپ رہنا ہمارے شہر کے آداب دیکھتے جاؤ پہنچ گئی ہے سر عرش ان کی خاموشی کہ کشتگاں کو ظفر یاب دیکھتے جاؤ سجائے ماتھے پہ اپنی تمام تعبیریں ہماری آنکھ کے سب خواب دیکھتے

قلم کو خون میں غرقاب دیکھتے جاؤ Read More »

تمام عمر وہ احسان مجھ پہ کرتا رہا

غزل تمام عمر وہ احسان مجھ پہ کرتا رہا مری ہی راکھ سے وہ زخم میرا بھرتا رہا تلاش تا بہ فلک جس کی لے گئی مجھ کو وہ جب ملا تو مرے بال و پر کترتا رہا ذرا سی دیر کا کہنے کو ساتھ تھا اس کا تمام عمر مرے دل میں وہ اترتا

تمام عمر وہ احسان مجھ پہ کرتا رہا Read More »

خیال و فکر کے سب موسموں میں رہتی ہے

غزل خیال و فکر کے سب موسموں میں رہتی ہے مری نگاہ کے وہ آئنوں میں رہتی ہے وہ میری چھوٹی سی گڑیا وہ جان سے پیاری وجود ذات کی سب دھڑکنوں میں رہتی ہے اسی کے دم سے مری زندگی حرارت ہے مرے لہو کی سبھی خوشبوؤں میں رہتی ہے مری نظر میں وہ

خیال و فکر کے سب موسموں میں رہتی ہے Read More »

عشق میں ہم سے مشقت نہیں کرنی آئی

غزل عشق میں ہم سے مشقت نہیں کرنی آئی جیسے کرتے ہیں محبت نہیں کرنی آئی آپ کے ہاتھ پہ ہم ہاتھ بھی رکھتے کیسے ہم سے تو اپنی ہی بیعت نہیں کرنی آئی گردش وقت میں ٹھوکر نہیں کھائی جس نے اس قبیلہ کو بغاوت نہیں کرنی آئی ہم ترے سائے میں کچھ دیر

عشق میں ہم سے مشقت نہیں کرنی آئی Read More »