MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب کسی کو کیا بتائیں کس قدر نادان تھے

غزل

اب کسی کو کیا بتائیں کس قدر نادان تھے
ہم وہیں کشتی کو لے آئے جہاں طوفان تھے

کچھ تڑپتی آرزوئیں چند بے معنی سوال
کارواں میں سب کے سر پر بس یہی سامان تھے

ہم نے اس دنیا کے مے خانہ میں یے دیکھا فریب
بس وہی پیاسے رہے جو صاحب ایمان تھے

زلزلوں پر آ گیا الزام اچھا ہی ہوا
ورنہ اس تخریب کے پہلے سے بھی امکان تھے

ان غموں نے دل میں صدیوں کے وسیلے کر لئے
جو فقط دو چار دن کے واسطے مہمان تھے

بس یہی سچ ہے کہ ہم اب ان کی محکومی میں ہیں
جو نفسؔ اپنی حویلی میں کبھی دربان تھے

نفس انبالوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم