MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

درد لے جاتا زیاں لے جاتا

غزل درد لے جاتا زیاں لے جاتا کون یہ تحفۂ جاں لے جاتا میں کہ لرزاں تھا جھکی شاخوں میں مجھ کو جھونکا بھی کہاں لے جاتا مجھ کو کیوں ڈھانپ دیا شاید میں جل نہ سکتا تو دھواں لے جاتا اتنا ارزاں ہے یہ بازار وفا میں کہاں جنس گراں لے جاتا تیرا کمرہ […]

درد لے جاتا زیاں لے جاتا Read More »

جو تم پہ حرف بھی آئے تو اپنا سر دیں گے

غزل جو تم پہ حرف بھی آئے تو اپنا سر دیں گے تمہارے لوگ ہمیں قتل بھی تو کر دیں گے ترے خطوط کی دولت تو سونپ دی تجھ کو یہ جی میں ہے کہ تجھے عظمت ہنر دیں گے پڑھی ہے اس نے کہانی مری رسالے میں اب اس پہ لوگ رسالے بھی بند

جو تم پہ حرف بھی آئے تو اپنا سر دیں گے Read More »

جب وہ لب نازک سے کچھ ارشاد کریں گے

غزل جب وہ لب نازک سے کچھ ارشاد کریں گے ہم اے دل مرحوم تجھے یاد کریں گے اب تو یہ تقاضے ہیں کسی دشمن جاں کے تم اف نہ کرو گے بھی تو بیداد کریں گے ہم آپ جلا لیں گے سرشک سر مژگاں اب آپ کہاں تک ستم ایجاد کریں گے اک دل

جب وہ لب نازک سے کچھ ارشاد کریں گے Read More »

برق ملتی ہے نہ تنکوں کو شرر ملتا ہے

غزل برق ملتی ہے نہ تنکوں کو شرر ملتا ہے دل کو برسات میں بے برگ شجر ملتا ہے اس کی گرمئ سخن راس نہ آئی اس کو اب وہ ملتا ہے تو کیا خاک بسر ملتا ہے صرف جینے کی ہوس ساتھ رہے تو شاید عمر کے ساتھ ہر اک گام پہ در ملتا

برق ملتی ہے نہ تنکوں کو شرر ملتا ہے Read More »

پس دیوار بھی دیوار اٹھائے ہوئے ہیں

غزل پس دیوار بھی دیوار اٹھائے ہوئے ہیں میرے ساتھی مرے لاشے کو چھپائے ہوئے ہیں کس سے پوچھوں کہ مرے نام کی تختی ہے کہاں میرے سینے میں تو ویرانے سمائے ہوئے ہیں ان سے کہہ دو جو مکیں ہیں مرے گھر میں کہ مجھے لوگ پھر بیچنے بازار میں لائے ہوئے ہیں ظلمتیں

پس دیوار بھی دیوار اٹھائے ہوئے ہیں Read More »

کچھ نظر اور جھکا کر ملنا

غزل کچھ نظر اور جھکا کر ملنا مجھ کو پلکوں میں چھپا کر ملنا شہر دل شہر خموشاں تو نہیں پھر بھی تم پاؤں دبا کر ملنا پیر اشکوں سے دھلا دوں گا میں تم مرے گھر کبھی آ کر ملنا نیند آنکھوں میں بھلی لگتی ہے مجھ کو نیندوں میں بسا کر ملنا مجھ

کچھ نظر اور جھکا کر ملنا Read More »

بہت رونے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا آخر

غزل بہت رونے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا آخر جو یادوں کے جھروکوں کو بھی شاید دھو گیا آخر نہ ماتم ہے نہ سناٹا عجب سرگوشیاں سی ہیں مری چوکھٹ پہ سر رکھ کر وہ لڑکا سو گیا آخر میں خود اشکوں کے دریاؤں کی پہنائی کا حاصل تھا مگر وہ ایک قطرہ

بہت رونے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا آخر Read More »

گھر سے باہر نکلے ہوئے تو گھر تک واپس آؤ بھی

غزل گھر سے باہر نکلے ہوئے تو گھر تک واپس آؤ بھی جیون ہی جب گھات میں ہو تو کہیں کہیں رک جاؤ بھی اس کا کیا ہے وہ تو سب کا تم ہی اکیلے پھرتے ہو اب تم اپنے اکیلے پن کو اپنا میت بناؤ بھی آنکھیں نم تھیں اور وہ اکثر نام تمہارا

گھر سے باہر نکلے ہوئے تو گھر تک واپس آؤ بھی Read More »

پانچ سطریں تحریر  افتخار جالب

پانچ سطریں تحریر  افتخار جالب قاسمیؔ صاحب، آپ کو غلط فہمی ہوئی ہم شاعر ہیں، حاجت مندنہیں حاجت مندوں کی بے لوث اِمداد کرنا آپ کا شیوہ ہے ظاہر ہے اِس میں آپ کا کوئی ذاتی فائدہ نہیں بس خدمت ہی ہے! سرمایہ دارانہ نظام میں آدمی کی شناخت کے اصول بیکار ہوگئے ہیں۔ انسانی

پانچ سطریں تحریر  افتخار جالب Read More »

ہوشیار بگلا تحریر ادریس صدیقی

ہوشیار بگلا تحریر ادریس صدیقی بگلا دن بھر کی دوڑ دھوپ کے بعد بڑی مشکل سے دو چار چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کا شکار کر پاتا۔ آس پاس کے ندی، نالوی اور جھیلوں کی مچھلیاں بھی چالاک ہو چکی ہیں۔ وہ بگلا کی چونچ سے بچنے کے لیے پانی کے اندر تیرتی رہتیں۔ بگلا بھاگتے دوڑتے

ہوشیار بگلا تحریر ادریس صدیقی Read More »