درد لے جاتا زیاں لے جاتا
غزل درد لے جاتا زیاں لے جاتا کون یہ تحفۂ جاں لے جاتا میں کہ لرزاں تھا جھکی شاخوں میں مجھ کو جھونکا بھی کہاں لے جاتا مجھ کو کیوں ڈھانپ دیا شاید میں جل نہ سکتا تو دھواں لے جاتا اتنا ارزاں ہے یہ بازار وفا میں کہاں جنس گراں لے جاتا تیرا کمرہ […]
درد لے جاتا زیاں لے جاتا Read More »