MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مور کی پریشانی  تحریر  ادریس صدیقی

مور کی پریشانی تحریر  ادریس صدیقی   بہت دنوں پہلے کی بات ہے۔ دھرتی پر انسان، جانور اور پرندے سبھی ساتھ رہتے تھے۔ اس وقت گاؤں، قصبہ اور شہر نہیں تھے۔ ہر طرف جنگل پھیلے ہوئے تھے۔ لوگ جنگلوں سے پھل، شہد اور جڑی بوٹیاں لیتے۔ وہ کھانے کے لیے شکار کرتے تھے۔ اس طرح […]

مور کی پریشانی  تحریر  ادریس صدیقی Read More »

تری گلی سے گزرنے کو سر جھکائے ہوئے

غزل تری گلی سے گزرنے کو سر جھکائے ہوئے فقیر حجرۂ ہفت آسماں اٹھائے ہوئے کوئی درخت سرائے کہ جس میں جا بیٹھیں پرندے اپنی پریشانیاں بھلائے ہوئے مرے سوال وہی ٹوٹ پھوٹ کی زد میں جواب ان کے وہی ہیں بنے بنائے ہوئے ہمیں جو دیکھتے تھے جن کو دیکھتے تھے ہم وہ خواب

تری گلی سے گزرنے کو سر جھکائے ہوئے Read More »

سو دنیا میں جینا بسنا دل کو مرنے مت دینا

غزل سو دنیا میں جینا بسنا دل کو مرنے مت دینا یار کرایہ دار کو گھر پر قبضہ کرنے مت دینا جاب ضروری ہوتی ہے صاحب مجبوری ہوتی ہے جاب کے گھن چکر میں پڑ کر خواب بکھرنے مت دینا ایسی لہریں ایسی بحریں کب قسمت سے ملتی ہیں اچھے مانجھی اب نیا کو پار

سو دنیا میں جینا بسنا دل کو مرنے مت دینا Read More »

مشہور تو بس ایک دیا ہے مرے دل میں

غزل مشہور تو بس ایک دیا ہے مرے دل میں کتنے ہی ستاروں کی جگہ ہے مرے دل میں تم نے تو حکایات ہی سن رکھی ہیں ورنہ وہ شہر وہ خیمے وہ سرا ہے مرے دل میں میں راہ سے بھٹکوں تو کھٹکتی ہے کوئی بات جس طرح کوئی سمت نما ہے مرے دل

مشہور تو بس ایک دیا ہے مرے دل میں Read More »

اس سے پہلے کہ زمیں زاد شرارت کر جائیں

غزل اس سے پہلے کہ زمیں زاد شرارت کر جائیں ہم ستاروں نے یہ سوچا ہے کہ ہجرت کر جائیں دولت خواب ہمارے جو کسی کام نہ آئی اب کسی کو نہیں ملنے کی وصیت کر جائیں دہر سے ہم یوں ہی بیکار چلے جاتے تھے پھر یہ سوچا کہ چلو ایک محبت کر جائیں

اس سے پہلے کہ زمیں زاد شرارت کر جائیں Read More »

خموش رہ کے زوال سخن کا غم کئے جائیں

غزل خموش رہ کے زوال سخن کا غم کئے جائیں سوال یہ ہے کہ یوں کتنی دیر ہم کئے جائیں یہ نقش گر کے لیے سہل بھی نہ ہو شاید کہ ہم سے اور بھی اس خاک پر رقم کئے جائیں کئی گزشتہ زمانے کئی شکستہ نجوم جو دسترس میں ہیں لفظوں میں کیسے ضم

خموش رہ کے زوال سخن کا غم کئے جائیں Read More »

خیمگیٔ شب ہے تشنگی دن ہے

غزل خیمگیٔ شب ہے تشنگی دن ہے وہی دریا ہے اور وہی دن ہے اس قدر مت اداس ہو جیسے یہ محبت کا آخری دن ہے اک دیا دل کی روشنی کا سفیر ہو میسر تو رات بھی دن ہے خاک اڑاتے کہاں پہ جاؤ گے اب تو یہ دشت بھی کوئی دن ہے شام

خیمگیٔ شب ہے تشنگی دن ہے Read More »

انسانی درندے اور اس آسانی سے مر جائیں

غزل انسانی درندے اور اس آسانی سے مر جائیں یہ سوچنے بیٹھیں تو پریشانی سے مر جائیں وہ جن کو میسر تھی ہر اک چیز دگر بھی ممکن ہے سہولت کی فراوانی سے مر جائیں کشتی پہ تھے کشتی کو جلاتے ہوئے حضرات اب آگ سے بچ جائیں بھلے پانی سے مر جائیں آئینے کا

انسانی درندے اور اس آسانی سے مر جائیں Read More »

یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیں

غزل یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیں ٹھہر ٹھہر کے ہم اس خواب سے نکلتے ہیں کسی کسی کو ہے تہذیب دشت آرائی کئی تو خاک اڑاتے ہوئے نکلتے ہیں یہاں رواج ہے زندہ جلا دیے جائیں وہ لوگ جن کے گھروں سے دیے نکلتے ہیں عجیب دشت ہے دل بھی جہاں سے جاتے

یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیں Read More »

اب مسافت میں تو آرام نہیں آ سکتا

غزل اب مسافت میں تو آرام نہیں آ سکتا یہ ستارہ بھی مرے کام نہیں آ سکتا یہ مری سلطنت خواب ہے آباد رہو اس کے اندر کوئی بہرام نہیں آ سکتا جانے کھلتے ہوئے پھولوں کو خبر ہے کہ نہیں باغ میں کوئی سیہ فام نہیں آ سکتا ہر ہوا خواہ یہ کہتا تھا

اب مسافت میں تو آرام نہیں آ سکتا Read More »