MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آ گیا جس کو بھی احساس کی وحشت پڑھنا

غزل آ گیا جس کو بھی احساس کی وحشت پڑھنا اس نے سیکھا ہی نہیں لفظ محبت پڑھنا سالہا سال گزر جاتے ہیں پڑھتے پڑھتے اتنا آسان کہاں درس صداقت پڑھنا پہلے اس جسم سے ہر خوف کے خلیے کو نکال تب کہیں آئے گا آداب بغاوت پڑھنا میری فرصت ہی بناتی ہے خد و […]

آ گیا جس کو بھی احساس کی وحشت پڑھنا Read More »

ایک بجا ہے رات کا اب تو سونے دو

غزل ایک بجا ہے رات کا اب تو سونے دو موبائل بھی گرم ہے ٹھنڈا ہونے دو آج تو پیاسے صبر کے گھر میں یکجا ہیں دریاؤں کو آج اکیلا رونے دو سوچ لو دل کو باہر چھوڑ کے آئے تو ہم دو میں سے رہ جائیں گے پونے دو آندھی نے جو بھر دی

ایک بجا ہے رات کا اب تو سونے دو Read More »

شکریہ بیچ سفر آپ نے تنہا چھوڑا

غزل شکریہ بیچ سفر آپ نے تنہا چھوڑا اس طرح آپ نے مجھ سے مرا رشتہ جوڑا شدت طیش سے کانپ اٹھی ہیں ساری شاخیں جب بھی گلچیں نے کسی شاخ سے گل کو توڑا اپنے اندر سے وہ اک دم نہ نکالے گا مجھے مجھ کو آنکھوں سے وہ ٹپکائے گا تھوڑا تھوڑا ہم

شکریہ بیچ سفر آپ نے تنہا چھوڑا Read More »

وہ جو رو رہا تھا وہ ہنس پڑا وہ جو ہنس رہا تھا وہ رو دیا

غزل وہ جو رو رہا تھا وہ ہنس پڑا وہ جو ہنس رہا تھا وہ رو دیا یہاں اک جزیرہ بنا دیا وہاں اک جزیرہ ڈبو دیا یہ بنانے والے کا شوق ہے کہیں ہار ہے کہیں طوق ہے کہیں واہ ہے کہیں آہ ہے کہیں پا لیا کہیں کھو دیا وہ اسیر حسن بیان

وہ جو رو رہا تھا وہ ہنس پڑا وہ جو ہنس رہا تھا وہ رو دیا Read More »

جو ہوا وہ ذہن میں تھا نہیں جو تھا ذہن میں وہ ہوا نہیں

غزل جو ہوا وہ ذہن میں تھا نہیں جو تھا ذہن میں وہ ہوا نہیں جو گمان میں نہ تھا مل گیا جو تھا ہاتھ میں وہ ملا نہیں وہ جو ہم میں تم میں تھا فاصلہ یہ کمال اس کے سبب ہوا وہ سنا گیا جو کہا نہیں جو کہا گیا وہ سنا نہیں

جو ہوا وہ ذہن میں تھا نہیں جو تھا ذہن میں وہ ہوا نہیں Read More »

یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنا

غزل یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنا لبوں پر پیاس رکھنا اور پانی پشت پر رکھنا تمناؤں کے اندھے شہر میں جب مانگنے نکلو تو چادر صبر کی صدیوں پرانی پشت پر رکھنا میں اک مزدور ہوں روٹی کی خاطر بوجھ اٹھاتا ہوں مری قسمت ہے بار حکمرانی پشت پر رکھنا تجھے

یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنا Read More »

کتابیں میری ساری جل رہی تھیں خواب کیسا تھا

غزل کتابیں میری ساری جل رہی تھیں خواب کیسا تھا سوا نیزے پہ سورج تھا تو پھر مہتاب کیسا تھا سواد شب ردائے تیرگی کی وسعتیں اوڑھے بھٹکتا پھر رہا تھا کرمک شب تاب کیسا تھا شناور میں بھی تھا بھوکے نہنگوں کے سمندر میں مرے اطراف لیکن خون کا گرداب کیسا تھا میں اپنی

کتابیں میری ساری جل رہی تھیں خواب کیسا تھا Read More »

کتنے ہی لوگ دل تلک آ کر گزر گئے

غزل کتنے ہی لوگ دل تلک آ کر گزر گئے ہم اپنی لاش آپ اٹھا کر گزر گئے وہ یورش الم تھی کہ تیری گلی سے ہم تجھ کو بھی اپنے جی سے بھلا کر گزر گئے اہل خرد فسانوں کے عنواں بنے رہے اہل جنوں فسانے سنا کر گزر گئے اس احتیاط درد کی

کتنے ہی لوگ دل تلک آ کر گزر گئے Read More »

تو میرے درد کو دنیا نئی نئی دینا

غزل تو میرے درد کو دنیا نئی نئی دینا مرے خدا مجھے کچھ اور آگہی دینا جو حسرتیں ہی مری زندگی کا حاصل ہیں تو حسرتوں کے اندھیروں کو زندگی دینا جو تو نے اپنے کرم سے دیا ہے اپنوں کو مری مژہ کو ان اشکوں کی بھی نمی دینا یہ غم کدہ تو سنورتا

تو میرے درد کو دنیا نئی نئی دینا Read More »

اس کو نغموں میں سمیٹوں تو بکا جانے ہے

غزل اس کو نغموں میں سمیٹوں تو بکا جانے ہے گریۂ شب کو جو نغمے کی صدا جانے ہے میں تری آنکھوں میں اپنے لیے کیا کیا ڈھونڈوں تو مرے درد کو کچھ مجھ سے سوا جانے ہے اس کو رہنے دو مرے زخموں کا مرہم بن کر خون دل کو جو مرے رنگ حنا

اس کو نغموں میں سمیٹوں تو بکا جانے ہے Read More »