MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو تم پہ حرف بھی آئے تو اپنا سر دیں گے

غزل

جو تم پہ حرف بھی آئے تو اپنا سر دیں گے
تمہارے لوگ ہمیں قتل بھی تو کر دیں گے

ترے خطوط کی دولت تو سونپ دی تجھ کو
یہ جی میں ہے کہ تجھے عظمت ہنر دیں گے

پڑھی ہے اس نے کہانی مری رسالے میں
اب اس پہ لوگ رسالے بھی بند کر دیں گے

اسے پکارو کہیں دل میں چھپ گیا ہے وہ
یہ گھر اسی کا ہے ہم اس کو سارا گھر دیں گے

دھڑک رہا ہے دل باغباں بھی غنچوں میں
یہ پھول تو تری زلفوں میں بھی شرر دیں گے

یہی سمجھ کے بڑے مطمئن ہیں دیوانے
قفس کھلا ہے تو صیاد بال و پر دیں گے

وفا کی راہ میں ہم اٹھ گئے تو تم ہی کہو
وہ کون ہوں گے جو ہر سر کو سنگ در دیں گے

اقبال متین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم