میں کچھ دنوں میں اسے چھوڑ جانے والا تھا
غزل میں کچھ دنوں میں اسے چھوڑ جانے والا تھا جہاز غرق ہوا جو خزانے والا تھا گلوں سے بوئے شکست اٹھ رہی ہے نغمہ گرو یہیں کہیں کوئی کوزے بنانے والا تھا عجیب حال تھا اس دشت کا میں آیا تو نہ خاک تھی نہ کوئی خاک اڑانے والا تھا تمام دوست الاؤ کے […]
میں کچھ دنوں میں اسے چھوڑ جانے والا تھا Read More »