MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میں کچھ دنوں میں اسے چھوڑ جانے والا تھا

غزل میں کچھ دنوں میں اسے چھوڑ جانے والا تھا جہاز غرق ہوا جو خزانے والا تھا گلوں سے بوئے شکست اٹھ رہی ہے نغمہ گرو یہیں کہیں کوئی کوزے بنانے والا تھا عجیب حال تھا اس دشت کا میں آیا تو نہ خاک تھی نہ کوئی خاک اڑانے والا تھا تمام دوست الاؤ کے […]

میں کچھ دنوں میں اسے چھوڑ جانے والا تھا Read More »

ربط اسیروں کو ابھی اس گل تر سے کم ہے

غزل ربط اسیروں کو ابھی اس گل تر سے کم ہے ایک رخنہ سا ہے دیوار میں در سے کم ہے حرف کی لو میں ادھر اور بڑھا دیتا ہوں آپ بتلائیں تو یہ خواب جدھر سے کم ہے ہاتھ دنیا کا بھی ہے دل کی خرابی میں بہت پھر بھی اے دوست تری ایک

ربط اسیروں کو ابھی اس گل تر سے کم ہے Read More »

میں اسے سوچتا رہا یعنی

غزل میں اسے سوچتا رہا یعنی وہ مرا خواب ہے خدا یعنی ہجر سے ہجر تک تھی یہ ہجرت وہ ملا یعنی کھو گیا یعنی گردش مہر و ماہ کا حاصل یعنی میرا وجود لا یعنی دل کہاں شہسوار دنیا تھا سو گرا گر کے مر گیا یعنی تو مجھے اس کا نام بھول گیا

میں اسے سوچتا رہا یعنی Read More »

مطلع غزل کا غیر ضروری کیا کیوں کب کا حصہ ہے

غزل مطلع غزل کا غیر ضروری کیا کیوں کب کا حصہ ہے زندگی چاکلیٹ کیک ہے تھوڑا تھوڑا سب کا حصہ ہے اب جو بار میں تنہا پیتا ہوں کافی کے نام پہ زہر اس کی تلخ سی شیرینی میں اس کے لب کا حصہ ہے لوک کہانیوں میں مابعد جدید کی پیش آمد جیسے

مطلع غزل کا غیر ضروری کیا کیوں کب کا حصہ ہے Read More »

یونہی آتی نہیں ہوا مجھ میں

غزل یونہی آتی نہیں ہوا مجھ میں ابھی روشن ہے اک دیا مجھ میں وہ مجھے دیکھ کر خموش رہا اور اک شور مچ گیا مجھ میں دونوں آدم کے منتقم بیٹے اور ہوا ان کا سامنا مجھ میں میں مدینے کو لوٹ آیا ہوں یعنی جاری ہے کربلا مجھ میں روشنی آنے والے خواب

یونہی آتی نہیں ہوا مجھ میں Read More »

کسی کے ہاتھ کہاں یہ خزانہ آتا ہے

غزل کسی کے ہاتھ کہاں یہ خزانہ آتا ہے مرے عزیز کو ہر اک بہانہ آتا ہے ذرا سا مل کے دکھاؤ کہ ایسے ملتے ہیں بہت پتا ہے تمہیں چھوڑ جانا آتا ہے ستارے دیکھ کے جلتے ہیں آنکھیں ملتے ہیں اک آدمی لئے شمع فسانہ آتا ہے ابھی جزیرے پہ ہم تم نئے

کسی کے ہاتھ کہاں یہ خزانہ آتا ہے Read More »

دل کا اور حال مضافات کا کب اچھا ہے

غزل دل کا اور حال مضافات کا کب اچھا ہے پر تجھے دیکھ کے لگتا ہے کہ سب اچھا ہے ایک تصویر میں لگتا ہے کہ ہم بھی خوش تھے ایک آواز سے لگتا ہے کہ سب اچھا ہے میری دنیا میں کوئی چیز ٹھکانے پہ نہیں بس تجھے دیکھ کے لگتا ہے کہ سب

دل کا اور حال مضافات کا کب اچھا ہے Read More »

دوست کچھ اور بھی ہیں تیرے علاوہ مرے دوست

غزل دوست کچھ اور بھی ہیں تیرے علاوہ مرے دوست کئی صحرا مرے ہمدم کئی دریا مرے دوست تو بھی ہو میں بھی ہوں اک جگہ پہ اور وقت بھی ہو اتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا مرے دوست! تیری آنکھوں پہ مرا خواب سفر ختم ہوا جیسے ساحل پہ اتر جائے سفینہ مرے دوست! زیست

دوست کچھ اور بھی ہیں تیرے علاوہ مرے دوست Read More »

اس ذات پہ صفات کی حجت ہوئی تمام

نعتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس ذات پہ صفات کی حجت ہوئی تمام سیرت تمام نورِ بدن روشنی تمام سب کو بقدرِ ظرف ملا ہے شعورِ ذات امی لقب پہ ختم ہوئی آگہی تمام اس منزلت پہ مسجدِ اقصیٰ بھی ہے گواہ ختم الرسل امام نبی مقتدی تمام بے قیدِ وقت بھیجے گا ان

اس ذات پہ صفات کی حجت ہوئی تمام Read More »

حنیف اسعدی کے تین مصرعی حمد

حنیف اسعدی کے تین مصرعی حمد پالن ہار جنگل، جھاڑی،پھل پھلواری اکہوا، ڈنٹھل، پتا ڈاری تو داتا، سنسار بھکاری سرکارﷺ دھیرج، ٹھنڈک، سکھ ، آرام سارے نام انہی کے نام اُن پہ درود اور اُن پہ سلام چار یار ؓ ایک نبی کا سچا یار ایک کو ہر دُربل سے پیار ایک میں لجّا اک

حنیف اسعدی کے تین مصرعی حمد Read More »