MOJ E SUKHAN

انسانی درندے اور اس آسانی سے مر جائیں

غزل

انسانی درندے اور اس آسانی سے مر جائیں
یہ سوچنے بیٹھیں تو پریشانی سے مر جائیں

وہ جن کو میسر تھی ہر اک چیز دگر بھی
ممکن ہے سہولت کی فراوانی سے مر جائیں

کشتی پہ تھے کشتی کو جلاتے ہوئے حضرات
اب آگ سے بچ جائیں بھلے پانی سے مر جائیں

آئینے کا یہ کون سا سیزن ہے ہمیں کیا
دیوار کو تکتے ہوئے حیرانی سے مر جائیں

بابرؔ کوئی جذباتی کرونوں سے یہ پوچھے
کس کھاتے میں ہم آپ کی نادانی سے مر جائیں

اے دوست مکمل نظر انداز ہی کر دیکھ
ایسا نہ ہو ہم نیم نگہبانی سے مر جائیں

بچ جائیں تو آخر کسے کیا فرق پڑے گا
دشمن نہ سہی دوست پشیمانی سے مر جائیں

آنکھوں میں اترتے ہوئے اترائیں ستارے
سورج ہوں تو جل کر تری پیشانی سے مر جائیں

رانجھے کو تو پھر ہیر کی تصویر بہت ہے
جی کرتا تھا لگ کر اسی مرجانی سے مر جائیں

ادریس بابر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم