MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرح

غزل کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرح وہ آشنا بھی ملا ہم سے اجنبی کی طرح کسے خبر تھی بڑھے گی کچھ اور تاریکی چھپے گا وہ کسی بدلی میں چاندنی کی طرح بڑھا کے پیاس مری اس نے ہاتھ چھوڑ دیا وہ کر رہا تھا مروت بھی دل لگی کی طرح […]

کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرح Read More »

حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا

غزل حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا سمجھو وہاں پھل دار شجر کوئی نہیں ہے وہ صحن کہ جس میں کوئی پتھر نہیں گرتا اتنا تو ہوا فائدہ بارش کی

حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا Read More »

اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں

غزل اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں آ تجھے میں گنگنانا چاہتا ہوں کوئی آنسو تیرے دامن پر گرا کر بوند کو موتی بنانا چاہتا ہوں تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں چھا رہا ہے ساری بستی میں اندھیرا روشنی کو، گھر جلانا چاہتا ہوں آخری

اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں Read More »

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں

غزل تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں کس کو خبر تھی سانولے بادل بن برسے اڑ جاتے ہیں ساون آیا لیکن اپنی قسمت میں برسات نہیں ٹوٹ گیا جب دل تو پھر یہ سانس کا نغمہ کیا معنی گونج رہی

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں Read More »

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے

غزل وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے Read More »

پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

غزل پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤ سکوت مرگ طاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ ہنسو اور ہنستے ہنستے ڈوبتے جاؤ خلاؤں میں ہمیں پہ رات بھاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ ہمیں تو آج کی شب پو پھٹے تک جاگنا ہوگا یہی قسمت ہماری ہے ستارو تم تو سو

پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤ Read More »

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو

غزل اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن میں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم تو کبھی یاد تو

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو Read More »

گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں

غزل گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں بچ نکلتے ہیں اگر آتش سیال سے ہم شعلۂ عارض گلفام سے جل جاتے ہیں خود نمائی تو نہیں شیوۂ

گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں Read More »

ہر منزل میں ہر رستے میں سچ اپنے کام آیا ہے

غزل ہر منزل میں ہر رستے میں سچ اپنے کام آیا ہے ہم نے جھوٹے لوگوں کو اکثر گھر تک پہنچایا ہے وعدہ شکن وہ لاکھ سہی پر مجھ کو حیراں کرنے کو کبھی کبھی تو مجھ سے ملنے وعدہ پر بھی آیا ہے چشم تماشا بھی شرمندہ حیرت میں آئینے بھی وقت کی دھوپ

ہر منزل میں ہر رستے میں سچ اپنے کام آیا ہے Read More »

غموں سے ہجر کے کچھ ایسے بد حواس رہے

غزل غموں سے ہجر کے کچھ ایسے بد حواس رہے وہ مل گئے بھی تو ہم دیر تک اداس رہے یہ انجمن تو ستم کو ستم ہی سمجھے گی ترا کرم کہ ہمیں ہم ادا شناس رہے وہ چاک دامنئ گل کا راز کیا جانیں بھری بہار میں جو خار بے لباس رہے جنوں ہے

غموں سے ہجر کے کچھ ایسے بد حواس رہے Read More »