MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مجھے حاصل کمال گفتگو ہے

غزل مجھے حاصل کمال گفتگو ہے یہ میں ہوں یا مرے لہجہ میں تو ہے جنون آبلہ پائی ٹھہر جا ابھی برہم مزاج جستجو ہے کسی دن تو حد امکاں میں ہوگا تصور میں جو شہر آرزو ہے اثر انداز ہوگا ذہن و دل پر جو سناٹا فضا میں چار سو ہے زباں پر ہی […]

مجھے حاصل کمال گفتگو ہے Read More »

تم ہمارے ہو ہم تمہارے ہیں

غزل تم ہمارے ہو ہم تمہارے ہیں اک سمندر کے دو کنارے ہیں دشت امکاں سے کوئے جاناں تک زیست نے کتنے روپ دھارے ہیں پھول خوشبو چراغ موج صبا یہ محبت کے استعارے ہیں کس لئے رقص میں ہے چرخ کہن کیوں تعاقب میں چاند تارے ہیں حاصل زندگی ہیں وہ لمحے جو غم

تم ہمارے ہو ہم تمہارے ہیں Read More »

کی جستجو تو ایک نیا گھر ملا مجھے

غزل کی جستجو تو ایک نیا گھر ملا مجھے برسوں کے بعد میرا مقدر ملا مجھے جب تشنگی بڑھی تو مسیحا نہ تھا کوئی جب پیاس بجھ گئی تو سمندر ملا مجھے دنیا مرے خلاف نبرد آزما رہی لیکن وہ ایک شخص برابر ملا مجھے زخم نگاہ زخم ہنر زخم دل کے بعد اک اور

کی جستجو تو ایک نیا گھر ملا مجھے Read More »

یہی اک مشغلہ ہے زندگی کا

غزل یہی اک مشغلہ ہے زندگی کا تعاقب کر رہا ہوں روشنی کا شگوفے پھول بنتے جا رہے ہیں گیا موسم مری دیوانگی کا نہ رکھو خواہش چہرہ نمائی نہ دے گا ساتھ آئینہ کسی کا میں زندہ ہوں وسیلے سے کسی کے وگرنہ مر گیا ہوتا کبھی کا اختر سعیدی

یہی اک مشغلہ ہے زندگی کا Read More »

چاندی جیسا رنگ ہے تیرا سونے جیسے بال

غزل چاندی جیسا رنگ ہے تیرا سونے جیسے بال اک تو ہی دھنوان ہے گوری باقی سب کنگال ہر آنگن میں آئے تیرے اجلے روپ کی دھوپ چھیل چھبیلی رانی تھوڑا گھونگھٹ اور نکال بھر بھر نظریں دیکھیں تجھ کو آتے جاتے لوگ دیکھ تجھے بدنام نہ کر دے یہ ہرنی سی چال کتنی سندر

چاندی جیسا رنگ ہے تیرا سونے جیسے بال Read More »

تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے

غزل تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں

تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے Read More »

وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتا

غزل وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتا ہنستا ہے مجھے دیکھ کے نفرت نہیں کرتا پکڑا ہی گیا ہوں تو مجھے دار پہ کھینچو سچا ہوں مگر اپنی وکالت نہیں کرتا کیوں بخش دیا مجھ سے گنہ گار کو مولا منصف تو کسی سے بھی رعایت نہیں کرتا گھر والوں کو غفلت

وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتا Read More »

حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں

غزل حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں وہ ترے حسن کی قیمت سے نہیں ہیں واقف پنکھڑی کو جو ترے لب کا بدل کہتے ہیں پڑ گئی پاؤں میں

حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں Read More »

یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے

غزل یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہوں سائے کو بدن مرا ہی سہی دوپہر نہ بھائے مجھے بہ رنگ عود ملے گی اسے مری خوشبو وہ جب بھی چاہے بڑے شوق سے جلائے مجھے میں گھر سے تیری تمنا

یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے Read More »

صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں

غزل صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں بکھرا پڑا ہے تیرے ہی گھر میں ترا وجود بے کار محفلوں میں تجھے ڈھونڈتا ہوں میں میں خودکشی کے جرم کا کرتا ہوں اعتراف اپنے بدن کی قبر میں کب سے گڑا

صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں Read More »