MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ادھر بھی آئیں کبھی دھوپ کے ستائے ہوئے

غٖزل ادھر بھی آئیں کبھی دھوپ کے ستائے ہوئے شجر کھڑے ہیں سر راہ سر جھکائے ہوئے کچھ اور بات کرو گردش جہاں کے سوا نہ واقعات سناؤ سنے سنائے ہوئے زمیں پہ ڈھیر کئے دوپہر کے سورج نے تمام پھول شب ماہ کے کھلائے ہوئے دھواں دھواں ہیں وہ چہرے بھی اب نہ جانے […]

ادھر بھی آئیں کبھی دھوپ کے ستائے ہوئے Read More »

نظر میں اپنی کبھی اس قدر برا تو نہ تھا

غزل نظر میں اپنی کبھی اس قدر برا تو نہ تھا میں اپنے آپ سے پہلے گریز پا تو نہ تھا یہ کیا کیا اسے تقدیر سونپ دی اپنی مری طرح وہ اک انسان تھا خدا تو نہ تھا گزر گیا جو برابر سے منہ چھپائے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہیں کوئی آشنا تو نہ

نظر میں اپنی کبھی اس قدر برا تو نہ تھا Read More »

شکایتیں نہ زمیں سے نہ آسمان سے ہیں

غزل شکایتیں نہ زمیں سے نہ آسمان سے ہیں کہ ایک عمر سے ہم لوگ بے زبان سے ہیں نہ ہو جو شہر کی مانند بود و باش نہیں یہی بہت ہے کہ صحرا میں ہم امان سے ہیں مری طرح ہدف عہد بے یقینی ہیں خود اپنے آپ سے جو لوگ بد گمان سے

شکایتیں نہ زمیں سے نہ آسمان سے ہیں Read More »

زخم تو بہت آئے پھر بھی حوصلہ رکھا

غزل زخم تو بہت آئے پھر بھی حوصلہ رکھا عمر بھر محبت میں ہم نے دل بڑا رکھا جس نے ایک لمحہ بھی تجھ سے واسطہ رکھا اپنے آپ کو خود سے عمر بھر جدا رکھا برگ خشک کی صورت لوگ ہو کے آوارہ سوچتے ہیں سرسر کا نام کیوں صبا رکھا جب اسے نہ

زخم تو بہت آئے پھر بھی حوصلہ رکھا Read More »

خیال میں ہے جو چہرہ نظر بھی آئے گا

غزل خیال میں ہے جو چہرہ نظر بھی آئے گا وہ اپنے گھر سے کبھی میرے گھر بھی آئے گا بچھڑتے وقت کا منظر بھی دھیان میں رکھنا سفر میں کام یہ رخت سفر بھی آئے گا نکل تو آئے ہیں زندان تیرگی سے مگر یہ سوچتے ہیں ہمیں کچھ نظر بھی آئے گا سبھی

خیال میں ہے جو چہرہ نظر بھی آئے گا Read More »

کیا یہ دیکھیں کہ کوئی اور تماشا کیا ہے

غزل کیا یہ دیکھیں کہ کوئی اور تماشا کیا ہے ہم کو خود اپنے علاوہ نظر آتا کیا ہے بعض دریاؤں کے منظر بھی عجب ہوتے ہیں آدمی سوچتا رہ جائے کہ صحرا کیا ہے وہ تو اچھا ہے کہ ہم ہی خس و خاشاک نہیں ورنہ ان تیز ہواؤں کا بھروسہ کیا ہے بجھ

کیا یہ دیکھیں کہ کوئی اور تماشا کیا ہے Read More »

نہ ہو گر دھیان میں چہرہ کسی کا

غزل نہ ہو گر دھیان میں چہرہ کسی کا بہت مشکل سفر ہے زندگی کا گلی کوچے بہت روشن ہیں لیکن گھروں میں مسئلہ ہے روشنی کا چنوں پلکوں سے کب تک سنگریزے خداوندا کوئی آنسو خوشی کا زمیں صدیوں پرانی ہو چکی ہے سہے گی بوجھ کب تک آدمی کا نہ جانے اور کتنا

نہ ہو گر دھیان میں چہرہ کسی کا Read More »

شام گزری ہے ابھی غم کی سحر باقی ہے

غزل شام گزری ہے ابھی غم کی سحر باقی ہے اک سفر ختم ہوا ایک سفر باقی ہے کس طرح گھر میں کہوں اپنے شکستہ گھر کو کوئی دیوار سلامت ہے نہ در باقی ہے زرد آتا ہے نظر خوف خزاں سے وہ بھی ایک پتا جو سر شاخ شجر باقی ہے اب جلائیں بھی

شام گزری ہے ابھی غم کی سحر باقی ہے Read More »

عشق کرنے کا ارادہ ہو تو ہم سے ملنا

غزل عشق کرنے کا ارادہ ہو تو ہم سے ملنا تم کو خود سے کبھی ملنا ہو تو ہم سے ملنا قابل دید ہیں سب زخم ہمارے دل کے آپ کو شوق تماشا ہو تو ہم سے ملنا سایۂ گل میں ملاقات رہے گی تم سے موسم گل میں جو تنہا ہو تو ہم سے

عشق کرنے کا ارادہ ہو تو ہم سے ملنا Read More »

وہ اپنے عشق میں کیسا کمال رکھتا ہے

غزل وہ اپنے عشق میں کیسا کمال رکھتا ہے کہ بے رخی میں بھی میرا خیال رکھتا ہے جو آج میرا نہیں ہے وہ کل مرا ہوگا کہ ہر زمانہ عروج و زوال رکھتا ہے عجب نہیں وہ جہاں بھر کو بے وفا سمجھے نظر میں میری وفا کی مثال رکھتا ہے کہاں تلک کوئی

وہ اپنے عشق میں کیسا کمال رکھتا ہے Read More »