MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کیوں نہ مہکیں گلاب آنکھوں میں

غزل کیوں نہ مہکیں گلاب آنکھوں میں ہم نے رکھے ہیں خواب آنکھوں میں رات آئی تو چاند سا چہرہ لے کے آیا شراب آنکھوں میں دیکھو ہم اک سوال کرتے ہیں لکھ رکھنا جواب آنکھوں میں اس میں خطرا ہے ڈوب جانے کا جھانکئے مت جناب آنکھوں میں کبھی آنکھیں کتاب میں گم ہیں […]

کیوں نہ مہکیں گلاب آنکھوں میں Read More »

کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے

غزل کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے اس کی تصویر ہٹا دی جائے ڈھونڈنے میں بھی مزہ آتا ہے کوئی شے رکھ کے بھلا دی جائے نام لکھ لکھ کے ترا کاغذ پر روشنائی بھی گرا دی جائے ناؤ کاغذ کی بنا کر اس کو بہتے پانی میں بہا دی جائے رات کو

کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے Read More »

سردی میں دن سرد ملا

غزل سردی میں دن سرد ملا ہر موسم بے درد ملا اونچے لمبے پیڑوں کا پتہ پتہ زرد ملا سوچتے ہیں کیوں زندہ ہیں اچھا یہ سر درد ملا ہم روئے تو بات بھی تھی کیوں روتا ہر فرد ملا ملا ہمیں بس ایک خدا اور وہ بھی بے درد ملا علویؔ خواہش بھی تھی

سردی میں دن سرد ملا Read More »

منہ زبانی قرآن پڑھتے تھے

غزل منہ زبانی قرآن پڑھتے تھے پہلے بچے بھی کتنے بوڑھے تھے اک پرندہ سنا رہا تھا غزل چار چھ پیڑ مل کے سنتے تھے جن کو سوچا تھا اور دیکھا بھی ایسے دو چار ہی تو چہرے تھے اب تو چپ چاپ شام آتی ہے پہلے چڑیوں کے شور ہوتے تھے رات اترا تھا

منہ زبانی قرآن پڑھتے تھے Read More »

دن اک کے بعد ایک گزرتے ہوئے بھی دیکھ

غزل دن اک کے بعد ایک گزرتے ہوئے بھی دیکھ اک دن تو اپنے آپ کو مرتے ہوئے بھی دیکھ ہر وقت کھلتے پھول کی جانب تکا نہ کر مرجھا کے پتیوں کو بکھرتے ہوئے بھی دیکھ ہاں دیکھ برف گرتی ہوئی بال بال پر تپتے ہوئے خیال ٹھٹھرتے ہوئے بھی دیکھ اپنوں میں رہ

دن اک کے بعد ایک گزرتے ہوئے بھی دیکھ Read More »

اور بازار سے کیا لے جاؤں

غزل اور بازار سے کیا لے جاؤں پہلی بارش کا مزا لے جاؤں کچھ تو سوغات دوں گھر والوں کو رات آنکھوں میں سجا لے جاؤں گھر میں ساماں تو ہو دلچسپی کا حادثہ کوئی اٹھا لے جاؤں اک دیا دیر سے جلتا ہوگا ساتھ تھوڑی سی ہوا لے جاؤں کیوں بھٹکتا ہوں غلط راہوں

اور بازار سے کیا لے جاؤں Read More »

لبوں پر یوں ہی سی ہنسی بھیج دے

غزل لبوں پر یوں ہی سی ہنسی بھیج دے مجھے میری پہلی خوشی بھیج دے اندھیرا ہے کیسے ترا خط پڑھوں لفافے میں کچھ روشنی بھیج دے میں پیاسا ہوں خالی کنواں ہے تو کیا صراحی لیے اک پری بھیج دے اگر تجھ کو فرصت نہیں تو نہ آ مگر ایک اچھا نبی بھیج دے

لبوں پر یوں ہی سی ہنسی بھیج دے Read More »

اچھے دن کب آئیں گے

غزل اچھے دن کب آئیں گے کیا یوں ہی مر جائیں گے اپنے آپ کو خوابوں سے کب تک ہم بہلائیں گے بمبئی میں ٹھہریں گے کہاں دلی میں کیا کھائیں گے کھلتے ہیں تو کھلنے دو پھول ابھی مرجھائیں گے کتنی اچھی لڑکی ہے برسوں بھول نہ پائیں گے موت نہ آئی تو علویؔ

اچھے دن کب آئیں گے Read More »

نیند راتوں کی اڑا دیتے ہیں

غزل نیند راتوں کی اڑا دیتے ہیں ہم ستاروں کو دعا دیتے ہیں روز اچھے نہیں لگتے آنسو خاص موقعوں پہ مزا دیتے ہیں اب کے ہم جان لڑا بیٹھیں گے دیکھیں اب کون سزا دیتے ہیں ہائے وہ لوگ جو دیکھے بھی نہیں یاد آئیں تو رلا دیتے ہیں دی ہے خیرات اسی در

نیند راتوں کی اڑا دیتے ہیں Read More »

ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کا

غزل ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کا ایک دروازہ سا کھلتا ہے کتب خانے کا ایک سناٹا دبے پاؤں گیا ہو جیسے دل سے اک خوف سا گزرا ہے بچھڑ جانے کا بلبلہ پھر سے چلا پانی میں غوطے کھانے نہ سمجھنے کا اسے وقت نہ سمجھانے کا میں نے الفاظ تو بیجوں

ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کا Read More »