MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دکھائی دیتے ہیں دھند میں جیسے سائے کوئی

غزل دکھائی دیتے ہیں دھند میں جیسے سائے کوئی مگر بلانے سے وقت لوٹے نہ آئے کوئی مرے محلے کا آسماں سونا ہو گیا ہے بلندیوں پہ اب آ کے پیچے لڑائے کوئی وہ زرد پتے جو پیڑ سے ٹوٹ کر گرے تھے کہاں گئے بہتے پانیوں میں بلائے کوئی ضعیف برگد کے ہاتھ میں […]

دکھائی دیتے ہیں دھند میں جیسے سائے کوئی Read More »

کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی

غزل کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی تینوں تھے ہم وہ بھی تھے اور میں بھی تھا تنہائی بھی یادوں کی بوچھاروں سے جب پلکیں بھیگنے لگتی ہیں سوندھی سوندھی لگتی ہے تب ماضی کی رسوائی بھی دو دو شکلیں دکھتی ہیں اس بہکے سے آئینے میں میرے ساتھ

کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی Read More »

بے سبب مسکرا رہا ہے چاند

غزل بے سبب مسکرا رہا ہے چاند کوئی سازش چھپا رہا ہے چاند جانے کس کی گلی سے نکلا ہے جھینپا جھینپا سا آ رہا ہے چاند کتنا غازہ لگایا ہے منہ پر دھول ہی دھول اڑا رہا ہے چاند کیسا بیٹھا ہے چھپ کے پتوں میں باغباں کو ستا رہا ہے چاند سیدھا سادہ

بے سبب مسکرا رہا ہے چاند Read More »

جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے

غزل جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے جانے کون آس پاس ہوتا ہے آنکھیں پہچانتی ہیں آنکھوں کو درد چہرہ شناس ہوتا ہے گو برستی نہیں سدا آنکھیں ابر تو بارہ ماس ہوتا ہے چھال پیڑوں کی سخت ہے لیکن نیچے ناخن کے ماس ہوتا ہے زخم کہتے ہیں دل کا گہنہ ہے درد

جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے Read More »

ایک پرواز دکھائی دی ہے

غزل ایک پرواز دکھائی دی ہے تیری آواز سنائی دی ہے صرف اک صفحہ پلٹ کر اس نے ساری باتوں کی صفائی دی ہے پھر وہیں لوٹ کے جانا ہوگا یار نے کیسی رہائی دی ہے جس کی آنکھوں میں کٹی تھیں صدیاں اس نے صدیوں کی جدائی دی ہے زندگی پر بھی کوئی زور

ایک پرواز دکھائی دی ہے Read More »

زندگی یوں ہوئی بسر تنہا

غزل زندگی یوں ہوئی بسر تنہا قافلہ ساتھ اور سفر تنہا اپنے سائے سے چونک جاتے ہیں عمر گزری ہے اس قدر تنہا رات بھر باتیں کرتے ہیں تارے رات کاٹے کوئی کدھر تنہا ڈوبنے والے پار جا اترے نقش پا اپنے چھوڑ کر تنہا دن گزرتا نہیں ہے لوگوں میں رات ہوتی نہیں بسر

زندگی یوں ہوئی بسر تنہا Read More »

درد ہلکا ہے سانس بھاری ہے

غزل درد ہلکا ہے سانس بھاری ہے جئے جانے کی رسم جاری ہے آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے رات کو چاندنی تو اوڑھا دو دن کی چادر ابھی اتاری ہے شاخ پر کوئی قہقہہ تو کھلے کیسی چپ سی چمن پہ طاری ہے کل کا ہر واقعہ

درد ہلکا ہے سانس بھاری ہے Read More »

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں

غزل خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں ایک پرانا خط کھولا انجانے میں شام کے سائے بالشتوں سے ناپے ہیں چاند نے کتنی دیر لگا دی آنے میں رات گزرتے شاید تھوڑا وقت لگے دھوپ انڈیلو تھوڑی سی پیمانے میں جانے کس کا ذکر ہے اس افسانے میں درد مزے لیتا ہے جو دہرانے میں

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں Read More »

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے

غزل ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے وقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے جس کی آواز میں سلوٹ ہو نگاہوں میں شکن ایسی تصویر کے ٹکڑے نہیں جوڑا کرتے لگ کے ساحل سے جو بہتا ہے اسے بہنے دو ایسے دریا کا کبھی رخ نہیں موڑا کرتے جاگنے پر بھی نہیں

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے Read More »

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے

غزل شام سے آنکھ میں نمی سی ہے آج پھر آپ کی کمی سی ہے دفن کر دو ہمیں کہ سانس آئے نبض کچھ دیر سے تھمی سی ہے کون پتھرا گیا ہے آنکھوں میں برف پلکوں پہ کیوں جمی سی ہے وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر عادت اس کی بھی آدمی سی ہے

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے Read More »