MOJ E SUKHAN

کیوں نہ مہکیں گلاب آنکھوں میں

غزل

کیوں نہ مہکیں گلاب آنکھوں میں
ہم نے رکھے ہیں خواب آنکھوں میں

رات آئی تو چاند سا چہرہ
لے کے آیا شراب آنکھوں میں

دیکھو ہم اک سوال کرتے ہیں
لکھ رکھنا جواب آنکھوں میں

اس میں خطرا ہے ڈوب جانے کا
جھانکئے مت جناب آنکھوں میں

کبھی آنکھیں کتاب میں گم ہیں
کبھی گم ہے کتاب آنکھوں میں

کوئی رہتا تھا رات دن علویؔ
انہیں خانہ خراب آنکھوں میں

محمد علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم