MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میں جب پہلے پہل اس شہر نا پرساں میں آیا تھا

غزل میں جب پہلے پہل اس شہر نا پرساں میں آیا تھا سبھی اپنے نظر آتے تھے لیکن کون اپنا تھا حسیں تھے دور ہی سے ساحل و دریا کے نظارہ مگر جب ڈوب کر دیکھا تو ساحل تھا نہ دریا تھا اسے ان فاصلوں کا کچھ نہ کچھ احساس تو ہوگا کبھی جس شخص […]

میں جب پہلے پہل اس شہر نا پرساں میں آیا تھا Read More »

ہم ہوئے تصویر اب پہلا سا وہ عالم کہاں

غزل ہم ہوئے تصویر اب پہلا سا وہ عالم کہاں رنگ ہیں سب پیرہن میں کھو گئے ہیں ہم کہاں مضمحل ہے صبح کا شعلہ دھواں ہے دشت پر دیکھنا ہے اڑ کے جاتی ہے مگر شبنم کہاں دست قاتل کے لیے ہونٹوں پہ اب بھی مرحبا خون اہل دل کی خاطر سینۂ ماتم کہاں

ہم ہوئے تصویر اب پہلا سا وہ عالم کہاں Read More »

گلا بیٹھا ہے کٹنے کی ہوس میں ہچکیاں بھر کر

غزل گلا بیٹھا ہے کٹنے کی ہوس میں ہچکیاں بھر کر چلا ہے کوئی ترکش میں قفس کی تیلیاں بھر کر کھڑے ہو بارشوں کی آس میں کیا کشت دل والو کوئی بیٹھا ہوا ہے بادلوں میں بجلیاں بھر کر یہاں تو حرف کا ہونٹوں پہ آتے دم نکلتا ہے دل دیوانہ دامن میں چلا

گلا بیٹھا ہے کٹنے کی ہوس میں ہچکیاں بھر کر Read More »

کہیں پہ قیس کہیں کوہ کن میاں لکھا

غزل کہیں پہ قیس کہیں کوہ کن میاں لکھا تمہارے شوق نے کیا کیا کہاں کہاں لکھا لکھا تمہیں نے قفس کو مقام آگاہی وصال دار کی شب صبح کی اذاں لکھا لکھا تمہیں نے لہو سے کمال گویائی تم ہی نے خنجر قاتل کو ہے زباں لکھا لکھا تمہیں نے مری چشم نم کو

کہیں پہ قیس کہیں کوہ کن میاں لکھا Read More »

متاع آبرو لے کر عطا سے کچھ نہیں ہوتا

غزل متاع آبرو لے کر عطا سے کچھ نہیں ہوتا بہا ہو خون دل تو خوں بہا سے کچھ نہیں ہوتا مزاج دل بگڑ جائے تو پھر اے مہرباں سنیے جفا سے کچھ نہیں ہوتا وفا سے کچھ نہیں ہوتا سر مقتل تمہارے کارنامے سب نے دیکھے ہیں سر منبر بہت آہ و بکا سے

متاع آبرو لے کر عطا سے کچھ نہیں ہوتا Read More »

قرار دل فسانہ ہو گیا ہے

غزل قرار دل فسانہ ہو گیا ہے تمہیں دیکھے زمانہ ہو گیا ہے تمہارے وعدۂ فردا کا حیلہ قیامت کا بہانہ ہو گیا ہے پرانے دوستوں کے گھر سنا ہے تمہارا آنا جانا ہو گیا ہے تمہارے ظلم کے لعل و گہر سب ہمارا دل خزانہ ہو گیا ہے دعائیں دیں مرے سینہ کو ان

قرار دل فسانہ ہو گیا ہے Read More »

جب دل میں غرور آئے تو دانائی بھی کیا ہے

غزل جب دل میں غرور آئے تو دانائی بھی کیا ہے جب رات اندھیری ہو تو بینائی بھی کیا ہے جب ڈوبنا ٹھہرا ہے تو طوفاں کا کسے خوف جب اشک سمندر ہوں تو گہرائی بھی کیا ہے جب زخم ہوں سینے میں تو پھر درد ہے کیا چیز گلشن میں مرے موج ہوا لائی

جب دل میں غرور آئے تو دانائی بھی کیا ہے Read More »

اور کوئی چارا نہ تھا اور کوئی صورت نہ تھی

غزل اور کوئی چارا نہ تھا اور کوئی صورت نہ تھی اس کے رہے ہو کے ہم جس سے محبت نہ تھی اتنے بڑے شہر میں کوئی ہمارا نہ تھا اپنے سوا آشنا ایک بھی صورت نہ تھی اس بھری دنیا سے وہ چل دیا چپکے سے یوں جیسے کسی کو بھی اب اس کی

اور کوئی چارا نہ تھا اور کوئی صورت نہ تھی Read More »

دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں

غزل دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں اب رات کے دریا میں پڑا ڈوب رہا ہوں اب تک میں وہیں پر ہوں جہاں سے میں چلا ہوں آواز کی رفتار سے کیوں بھاگ رہا ہوں رکھتے ہو اگر آنکھ تو باہر سے نہ دیکھو دیکھو مجھے اندر سے بہت ٹوٹ چکا ہوں

دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں Read More »

سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے

غزل سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے اسی بہانے ذرا منہ دکھا گئے ہوتے تمہیں بھی وقت کی رفتار کا پتہ چلتا نکل کے گھر سے گلی تک تو آ گئے ہوتے گلا بھگو کے کہیں اور صدا لگا لیتا ذرا فقیر کو پانی پلا گئے ہوتے ارے یہ ٹھیک ہوا ہونٹ سی

سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے Read More »