MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی

غزل دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی جیسے احساں اتارتا ہے کوئی دل میں کچھ یوں سنبھالتا ہوں غم جیسے زیور سنبھالتا ہے کوئی آئنہ دیکھ کر تسلی ہوئی ہم کو اس گھر میں جانتا ہے کوئی پیڑ پر پک گیا ہے پھل شاید پھر سے پتھر اچھالتا ہے کوئی دیر سے گونجتے ہیں سناٹے […]

دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی Read More »

شاد عظیم آبادی نم آلودگیوں کا شاعر

نم آلودگیوں کا شاعر شاد عظیم آبادی موجِ سخن ریسرچ ڈیسک ”شاد کی اہمیت ادبی بھی ہے اور تاریخی بھی۔ تاریخی اس معنی میں کہ جب غزل کے اوپر حملے ہو رہے تھےاور چاند ماریاں ہو رہی تھیں اس زمانہ میں شاد غزل کے علم کو بلند کئے رہے۔ ادبی بات یہ ہوئی کہ کلاسیکی

شاد عظیم آبادی نم آلودگیوں کا شاعر Read More »

جب کسی نے حال پوچھا رو دیا

غزل جب کسی نے حال پوچھا رو دیا چشم تر تو نے تو مجھ کو کھو دیا داغ ہو یا سوز ہو یا درد و غم لے لیا خوش ہو کے جس نے جو دیا اشک ریزی کے دھڑلے نے غبار جب ذرا بھی دل پہ دیکھا دھو دیا دل کی پروا تک نہیں اے

جب کسی نے حال پوچھا رو دیا Read More »

کعبہ و دیر میں جلوہ نہیں یکساں ان کا

غزل کعبہ و دیر میں جلوہ نہیں یکساں ان کا جو یہ کہتے ہیں ٹٹولے کوئی ایماں ان کا جستجو کے لیے نکلے گا جو خواہاں ان کا گھر بتا دے گا کوئی مرد مسلماں ان کا تو نے دیدار کا جن جن سے کیا ہے وعدہ ہائے رے ان کی خوشی ہائے رے ارماں

کعبہ و دیر میں جلوہ نہیں یکساں ان کا Read More »

اب انتہا کا ترے ذکر میں اثر آیا

غزل اب انتہا کا ترے ذکر میں اثر آیا کہ منہ سے نام لیا دل میں تو اتر آیا بہت دنوں پہ مری چشم میں نظر آیا اے اشک خیر تو ہے، تو کدھر کدھر آیا ہزار شکر کہ اس دل میں تو نظر آیا یہ نقشہ صفحۂ خالی پہ جلد اتر آیا بشر حباب

اب انتہا کا ترے ذکر میں اثر آیا Read More »

تیری زلفیں غیر اگر سلجھائے گا

غزل تیری زلفیں غیر اگر سلجھائے گا آنکھ والوں سے نہ دیکھا جائے گا سب طرح کی سختیاں سہہ جائے گا کیوں دلا تو بھی کبھی کام آئے گا ایک دن ایسا بھی ناصح آئے گا غم کو میں اور غم مجھے کھا جائے گا اے فلک ایسا بھی اک دن آئے گا جب کیے

تیری زلفیں غیر اگر سلجھائے گا Read More »

کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا

غزل کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا مرتے مرتے ہوش باقی تیرے دیوانے میں تھا ہائے وہ خود رفتگی الجھے ہوئے سب سر کے بال وہ کسی میں اب کہاں جو تیرے دیوانے میں تھا جس طرف جائے نظر اپنا ہی جلوہ تھا عیاں جسم میں ہم تھے کہ وحشی آئینہ

کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا Read More »

یہ دلجمعی جئے جب تک جئے جینا اسی کا ہے

غزل یہ دلجمعی جئے جب تک جئے جینا اسی کا ہے پئے جو سیر ہو کے رات دن پینا اسی کا ہے نگہ کی برچھیاں جو سہہ سکے سینا اسی کا ہے ہمارا آپ کا جینا نہیں جینا اسی کا ہے تصور اس رخ صافی کا رکھ مد نظر ناداں لگائے منہ جو آئینے کو

یہ دلجمعی جئے جب تک جئے جینا اسی کا ہے Read More »

نہ دل اپنا نہ غم اپنا نہ کوئی غم گسار اپنا

غزل نہ دل اپنا نہ غم اپنا نہ کوئی غم گسار اپنا ہم اپنا جانتے ہر چیز کو ہوتا جو یار اپنا جمے کس طرح اس حیرت کدے میں اعتبار اپنا نہ دل اپنا نہ جان اپنی نہ ہم اپنے نہ یار اپنا حقیقت میں ہمیں کو جب نہیں خود اعتبار اپنا غلط سمجھی اگر

نہ دل اپنا نہ غم اپنا نہ کوئی غم گسار اپنا Read More »

ایک ستم اور لاکھ ادائیں اف ری جوانی ہائے زمانے

غزل ایک ستم اور لاکھ ادائیں اف ری جوانی ہائے زمانے ترچھی نگاہیں تنگ قبائیں اف ری جوانی ہائے زمانے ہجر میں اپنا اور ہے عالم ابر بہاراں دیدۂ پر نم ضد کہ ہمیں وہ آپ بلائیں اف ری جوانی ہائے زمانے اپنی ادا سے آپ جھجکنا اپنی ہوا سے آپ کھٹکنا چال میں لغزش

ایک ستم اور لاکھ ادائیں اف ری جوانی ہائے زمانے Read More »