MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دکھائی دیتے ہیں دھند میں جیسے سائے کوئی

غزل

دکھائی دیتے ہیں دھند میں جیسے سائے کوئی
مگر بلانے سے وقت لوٹے نہ آئے کوئی

مرے محلے کا آسماں سونا ہو گیا ہے
بلندیوں پہ اب آ کے پیچے لڑائے کوئی

وہ زرد پتے جو پیڑ سے ٹوٹ کر گرے تھے
کہاں گئے بہتے پانیوں میں بلائے کوئی

ضعیف برگد کے ہاتھ میں رعشہ آ گیا ہے
جٹائیں آنکھوں پہ گر رہی ہیں اٹھائے کوئی

مزار پہ کھول کر گریباں دعائیں مانگیں
جو آئے اب کے تو لوٹ کر پھر نہ جائے کوئی

گلزار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم