MOJ E SUKHAN

جب کسی نے حال پوچھا رو دیا

غزل

جب کسی نے حال پوچھا رو دیا
چشم تر تو نے تو مجھ کو کھو دیا

داغ ہو یا سوز ہو یا درد و غم
لے لیا خوش ہو کے جس نے جو دیا

اشک ریزی کے دھڑلے نے غبار
جب ذرا بھی دل پہ دیکھا دھو دیا

دل کی پروا تک نہیں اے بے خودی
کیا کیا پھینکا کہاں کس کو دیا

کچھ نہ کچھ اس انجمن میں حسب حال
تو نے قسام ازل سب کو دیا

کشت دنیا کیا خبر کیا پھل ملے
تخم غم ہم نے تو آ کر بو دیا

یہ بھی نشہ مے کشو کچھ کم نہیں
دے نہ دے ساقی پہ تم سمجھو دیا

شادؔ کے آگے بھلا کیا ذکر یار
نام ادھر آیا کہ اس نے رو دیا

زمرۂ اہل قلم میں لکھ کے نام
خود کو ناحق شادؔ تو نے کھو دیا

شاد عظیم آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم