MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا

غزل اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا تو میں مرنے سے در گزرا مرے کس کام آئے گا اسے بھی ٹھان رکھ ساقی یقیں ہوگا نہ رندوں کو اگر زاہد پہن کر جامۂ احرام آئے گا شب فرقت میں درد دل سے میں اس واسطے خوش ہوں زباں پر رات بھر […]

اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا Read More »

اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا

غزل اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا مژدہ اے روح تجھے عشق سا دم ساز آیا نکبت فقر گئی شاہ سرافراز آیا پاس اپنے جو نیا کوئی فسوں ساز آیا ہو رہے اس کے ہمیں یاد ترا ناز آیا پیتے پیتے تری اک

اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا Read More »

تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں

غزل تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں ہوں اس کوچے کے ہر ذرے سے آگاہ ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں نہیں اٹھتے قدم کیوں جانب دیر کسی مسجد میں بہکایا گیا ہوں دل مضطر سے پوچھ اے رونق بزم میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں سویرا ہے بہت

تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں Read More »

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

غزل ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر دریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم ہو جائے بکھیڑا پاک کہیں پاس اپنے بلا

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم Read More »

یہ ان سے ملتی ہے مبتلا نئیں

غزل یہ ان سے ملتی ہے مبتلا نئیں ہوا درختوں کی داشتہ نئیں وفا کا سن کر ملال مت کر یہ پیشکش ہے مطالبہ نئیں یقین سے عشق ہو رہا ہے کسی کو فکری مغالطہ نئیں فسردہ لوگوں پہ ہنسنے والو یہ بد تمیزی کی انتہا نئیں نظر نظر سے سخن کرے گی یہ لب

یہ ان سے ملتی ہے مبتلا نئیں Read More »

ہو کے باریک مل رہی ہے مجھے

غزل ہو کے باریک مل رہی ہے مجھے ہر خبر ویک مل رہی ہے مجھے خوش بہت ہیں ہم ایک دوسرے سے زندگی ٹھیک مل رہی ہے مجھے پھول ہے عشق کا سہولت کار اس سے تحریک مل رہی ہے مجھے مطمئن ہوں کے صاحبو ہر چیز گھر کے نزدیک مل رہی ہے مجھے مہ

ہو کے باریک مل رہی ہے مجھے Read More »

مارنے والی امنگوں کی طرح ہوتا ہے

غزل مارنے والی امنگوں کی طرح ہوتا ہے عشق بارودی سرنگوں کی طرح ہوتا ہے روشنی مجھ پہ بھی اتنا ہی اثر کرتی ہے میرا جلنا بھی پتنگوں کی طرح ہوتا ہے بعد میں آتی ہے تہذیب محبت صاحب ہر کوئی پہلے لفنگوں کی طرح ہوتا ہے اس سے بچنا ہی مناسب ہے ذرا دھیان

مارنے والی امنگوں کی طرح ہوتا ہے Read More »

عشق جو والہانہ ہوتا ہے

غزل عشق جو والہانہ ہوتا ہے خود کو ہی آزمانا ہوتا ہے صرف الفاظ ہی نہیں ہوتے شعر پورا زمانہ ہوتا ہے کشتیاں اور لوگ لاتے ہیں میں نے دریا بنانا ہوتا ہے مبتلا بے نشاں نہیں ہوتے ان کا اپنا گھرانا ہوتا ہے لوگ کرتے ہیں عشق کی باتیں میں نے کرکے دکھانا ہوتا

عشق جو والہانہ ہوتا ہے Read More »

درون عشق عجب تانا بانا بنتا ہے

غزل درون عشق عجب تانا بانا بنتا ہے ذرا سی بات کا کتنا فسانہ بنتا ہے میاں یہ شاخ محبت تمہارے سامنے ہے بناؤ اس پہ اگر آشیانہ بنتا ہے ہمارے درد پڑے ہیں چہار سمت یہاں سو مسکراؤ یہاں مسکرانا بنتا ہے چھپائے پھرتا ہوں آنکھوں میں اشک کے موتی کہ جمع کرنے سے

درون عشق عجب تانا بانا بنتا ہے Read More »

چہار سمت کہیں دائیں بائیں لگتی ہیں

غزل چہار سمت کہیں دائیں بائیں لگتی ہیں سکوت توڑنا ہو تو صدائیں لگتی ہیں بزرگ ایسے بھلائی کے پیڑ ہیں جن پر اگر ثمر نہ لگے تو دعائیں لگتی ہیں کہ ان کے ہونے سے گھر بھی چہکنے لگتا ہے مجھے تو بیٹیاں بھی فاختائیں لگتی ہیں بتایا جائے اگر دل کا درد روکنا

چہار سمت کہیں دائیں بائیں لگتی ہیں Read More »