MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کیا مٹا دو گے نام پھولوں کا

غزل کیا مٹا دو گے نام پھولوں کا مت کرو قتل عام پھولوں کا رنگ و بو نے بھی ساتھ چھوڑ دیا رفتہ رفتہ تمام پھولوں کا گلستاں کو فروغ ہوگا مگر شرط ہے احترام پھولوں کا اک نہ اک دن حساب لینا ہے باغباں سے تمام پھولوں کا موسم گل ہے یہ خزاں تو […]

کیا مٹا دو گے نام پھولوں کا Read More »

تیرے ساتھ چلتی ہوں اک جہان جاتا ہے

غزل تیرے ساتھ چلتی ہوں اک جہان جاتا ہے گر گریز کرتی ہوں تیرا مان جاتا ہے درد کے حوالے سے کتنا با خبر ہے وہ میرے دل کی باتوں کو کیسے جان جاتا ہے دھوپ ہی تو ملتی ہے زرد زرد موسم میں وحشتوں کے صحرا میں سائبان جاتا ہے خاک دل تجھے لے

تیرے ساتھ چلتی ہوں اک جہان جاتا ہے Read More »

آؤ نا مجھ میں اتر جاؤ غزل ہونے تک

غزل آؤ نا مجھ میں اتر جاؤ غزل ہونے تک تم ذرا اور نکھر جاؤ غزل ہونے تک میری خاطر ہی ٹھہر جاؤ غزل ہونے تک آرزو ہے کہ نہ گھر جاؤ غزل ہونے تک تم اگر چاہو تو ہر شعر شگفتہ ہو جائے بس مرے دل میں اتر جاؤ غزل ہونے تک چاند بن

آؤ نا مجھ میں اتر جاؤ غزل ہونے تک Read More »

کئی سوال مچلتے ہیں ہر سوال کے بعد

غزل کئی سوال مچلتے ہیں ہر سوال کے بعد شب وصال سے پہلے شب وصال کے بعد نہ جانے کیوں یہ مرا دل دھڑکنے لگتا ہے ترے خیال سے پہلے ترے خیال کے بعد ہر ایک داؤ سے واقف تھی اے مرے ہمدم میں تیری چال سے پہلے میں تیری چال کے بعد نہ جانے

کئی سوال مچلتے ہیں ہر سوال کے بعد Read More »

خزاں نے ستایا نہ خاروں نے لوٹا

غزل خزاں نے ستایا نہ خاروں نے لوٹا گلوں نے دئے دکھ بہاروں نے لوٹا فلاحی ریاست کا نقشہ دکھا کر غریبوں کو سرمایہ کاروں نے لوٹا جو اسلام کے نام پر چل رہے تھے مزا ان سیاسی اداروں نے لوٹا کڑے وقت پر کام آنا تھا جن کو وطن کو انہیں جاں نثاروں نے

خزاں نے ستایا نہ خاروں نے لوٹا Read More »

حیرت !حیرت! افسانہ نگار رضیہ فصیح احمد

حیرت !حیرت! افسانہ نگار رضیہ فصیح احمد ذکر چوریوں کا تھا۔ کراچی میں قانون کے تحفظ کے ادارے بھی چوکس ہیں۔ پولیس چوکیاں بھی چوک چوک موجود ہیں۔ چوکیدار بھی گھر گھر تعینات ہیں، پھر بھی چوری چکاری، ڈاکے کھلے عام ہو رہے ہیں۔ حیرت!!۔۔۔ مگر لوگ کہتے ہیں کہ اپنے ملک کی کسی بات

حیرت !حیرت! افسانہ نگار رضیہ فصیح احمد Read More »

پائلٹ افسانہ نگار رضیہ فصیح احمد

پائلٹ افسانہ نگار  رضیہ فصیح احمد ’’باجی، باجی۔۔۔ باجی دیکھیے۔‘‘ اس نے مانو کو نظرانداز کرکے اوپر سے آنے والی زیادہ پرشور آواز کی طرف دیکھنا شروع کیا۔ ہری پٹی اور سفید جسم والا ہوائی جہاز بہت نیچے، بہت ہی نیچے گویا ان کے سروں پر سے اڑتا چلا جارہا تھا۔ اس کی رفتار سست

پائلٹ افسانہ نگار رضیہ فصیح احمد Read More »

بستی نظم

بستی  نظم کھلی آنکھوں سے دنیا کا تماشا دیکھتے رہنا زباں سے کچھ نہیں کہنا طواف رائیگاں کی عادتیں بھی اب پرانی ہیں یقیں آثار گھڑیاں بھی تصرف میں نہیں میرے انہی آنکھوں کے اک گوشے میں ست رنگے سہانے خواب رکھے ہیں کہیں آدھی رفاقت کی کسک نے گھر بنایا ہے کہیں تکمیل کی

بستی نظم Read More »

جو شہر وحشت میں جا بسا ہو وہ کیا سکون و قرار لکھے

غزل جو شہر وحشت میں جا بسا ہو وہ کیا سکون و قرار لکھے کسے ہے یہ حوصلہ کہ بکھرے تو کرچیوں کا شمار لکھے کبھی سنائی نہیں کسی کو بھی داستان دل دریدہ بہت قرینے سے زخم لکھے بہت سلیقے سے خار لکھے بہت سہولت سے چپ کو لکھا لکھا ہے حسرت سے گفتگو

جو شہر وحشت میں جا بسا ہو وہ کیا سکون و قرار لکھے Read More »

میرے قدموں سے اک رہ گزر باندھ کر

غزل میرے قدموں سے اک رہ گزر باندھ کر چھین لی اس نے منزل سفر باندھ کر کیا زمیں دیکھنا کیا فلک دیکھنا اس نے چھوڑا مجھے میرے پر باندھ کر عمر رفتہ کی یادیں سنبھالے ہوئے گھر سے نکلی ہوں نظروں میں گھر باندھ کر میری نظروں میں جچتا نہ تھا یہ جہاں اس

میرے قدموں سے اک رہ گزر باندھ کر Read More »