MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہے جب تک دشت پیمائی سلامت

غزل ہے جب تک دشت پیمائی سلامت رہے گی آبلہ پائی سلامت رہے جب تک یہ بینائی سلامت ہماری خامہ فرسائی سلامت بہت سنوریں گے سنگ و سر کے رشتے جنوں کی کار فرمائی سلامت بہت حیران ہیں آئینہ خانے ترے قامت کی زیبائی سلامت سبھی ہاتھوں میں لے کر سنگ آئے خرد کی جلوہ […]

ہے جب تک دشت پیمائی سلامت Read More »

دعا ہی وجہ کرامات تھوڑی ہوتی ہے

غزل دعا ہی وجہ کرامات تھوڑی ہوتی ہے غضب کی دھوپ میں برسات تھوڑی ہوتی ہے رہ وفا کی روایت ہے سر جھکا رکھنا بساط عشق پہ یہ مات تھوڑی ہوتی ہے جو اپنا نام صف معتبر میں لکھتے ہیں خود ان سے اپنی ملاقات تھوڑی ہوتی ہے بہت سے راز دلوں کے دلوں میں

دعا ہی وجہ کرامات تھوڑی ہوتی ہے Read More »

میں اکثر سوچتی ہوں زندگی کو کون لکھے گا

غزل میں اکثر سوچتی ہوں زندگی کو کون لکھے گا نہ میں لکھوں تو پھر اس بے بسی کو کون لکھے گا بہت مصروف ہیں اہل جہاں ہرزہ سرائی میں اب آشوب سخن میں بے حسی کو کون لکھے گا کئی صدیاں گزاریں منزلوں کے کھوج میں پھرتے تو پھر میرے سوا اس گمرہی کو

میں اکثر سوچتی ہوں زندگی کو کون لکھے گا Read More »

شب کی تاریک راہداری ہے

غزل شب کی تاریک راہداری ہے اور مرا خوف اضطراری ہے سبز خوابوں کی کم سے کم قیمت زندگی بھر کی اشک باری ہے اک مسلط شدہ تمدن کو یہ نہ کہیے کہ اختیاری ہے شش جہاتی مشاہدہ ہے میاں تجربوں کی سند پہ بھاری ہے شکریہ آپ کی محبت کا دل کا مقسوم سوگواری

شب کی تاریک راہداری ہے Read More »

چل کہیں دور زمانے سے ادھر ملتے ہیں

غزل چل کہیں دور زمانے سے ادھر ملتے ہیں جسم کے آئنہ خانے سے ادھر ملتے ہیں خلد آثار ہے گویا یہ ترا شہر خیال کیسے رنگین فسانے سے ادھر ملتے ہیں دل دفینے کو کبھی کھوج نوادر کتنے وقت کی گرد ہٹانے سے ادھر ملتے ہیں یک بیک دھندلے ہوئے جاتے ہیں سارے منظر

چل کہیں دور زمانے سے ادھر ملتے ہیں Read More »

سانولی دھوپ سرمئی موسم

غزل سانولی دھوپ سرمئی موسم پھر وہی ہم ہیں پھر وہی موسم خیر ہو سائبان گم گشتہ جھیلنے پڑ گئے کئی موسم داستان تضاد ہے گویا شہر خوباں سمندری موسم ہم نے اپنی بیاض میں لکھے دل پہ بیتے ہوئے سبھی موسم اک تعلق ہے عارضی یعنی موسم گل ہے عارضی موسم دل فگاروں کو

سانولی دھوپ سرمئی موسم Read More »

اک تبسم ہمہ ایام گراں باری بھی

غزل اک تبسم ہمہ ایام گراں باری بھی نعمت خلد ہے فطرت میں سبک ساری بھی اک زمانے بڑا خاموش رہا ذہن رسا اب تو باہر کو ابلتی ہے یہ الماری بھی عین ممکن ہے تنفس کی سہولت نہ رہے کس کو راس آئی ہے مرضی سے گرفتاری بھی جنگ کا فیصلہ عجلت میں نہیں

اک تبسم ہمہ ایام گراں باری بھی Read More »

جمال یار اور اس کا بیاں محبت ہے

غزل جمال یار اور اس کا بیاں محبت ہے حسین شام کا دل کش سماں محبت ہے ہمیں گلہ ہے کہ تم نے ہمیں نہیں روکا تمہیں خبر تھی کہ آتش فشاں محبت ہے عمل نہ ہو تو یقیں کس طرح دلاؤ گے زباں سے کتنا بھی کہہ لو کہ ہاں محبت ہے وہ اور

جمال یار اور اس کا بیاں محبت ہے Read More »

چاہے کھوٹے ہیں یا کھرے ہیں ہم

غزل چاہے کھوٹے ہیں یا کھرے ہیں ہم دست قدرت کے لاڈلے ہیں ہم عکس رفتہ کو دیکھیے صاحب کتنے معصوم لگ رہے ہیں ہم رات جیون کا گیت گاتی ہے خواب تنویم دیکھتے ہیں ہم عمر لگ جائے گی سنبھلنے میں کس بلندی سے یوں گرے ہیں ہم ایک ہنگام ہے تغیر کا کنج

چاہے کھوٹے ہیں یا کھرے ہیں ہم Read More »

تیری قدرت کے معترف کے لیے

غزل تیری قدرت کے معترف کے لیے اسم اعظم ہے مکتشف کے لیے آئنہ وار جھلملائے ہیں اپنے معکوس و منعطف کے لیے کوئی جائے سکون ہے کہ نہیں رسم کہنہ کے منحرف کے لیے مستقل اک جواب لا اعرف وہ بھی اک راز منکشف کے لیے من و سلویٰ اترنے والا تھا دشت امکاں

تیری قدرت کے معترف کے لیے Read More »