MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیا مٹا دو گے نام پھولوں کا

غزل

کیا مٹا دو گے نام پھولوں کا
مت کرو قتل عام پھولوں کا

رنگ و بو نے بھی ساتھ چھوڑ دیا
رفتہ رفتہ تمام پھولوں کا

گلستاں کو فروغ ہوگا مگر
شرط ہے احترام پھولوں کا

اک نہ اک دن حساب لینا ہے
باغباں سے تمام پھولوں کا

موسم گل ہے یہ خزاں تو نہیں
کیوں ہے برہم نظام پھولوں کا

ایک دو کا معاملہ تو نہیں
مسئلہ ہے تمام پھولوں کا

بجلیاں لے رہی ہیں گن گن کر
غالباً انتقام پھولوں کا

خون ناحق ہے یہ ارے توبہ
صبح غنچوں کا شام پھولوں کا

یوں جو مرجھا گئے بغیر کھلے
غم ہے ایسے تمام پھولوں کا

ہے سبھی کی نگاہ میں رومیؔ
آج کرب تمام پھولوں کا

رومانہ رومی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم