MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دل کی رہ جائے نہ دل میں یہ کہانی کہہ لو

غزل دل کی رہ جائے نہ دل میں یہ کہانی کہہ لو چاہے دو حرف لکھو چاہے زبانی کہہ لو میں نے مرنے کی دعا مانگی وہ پوری نہ ہوئی بس اسی کو مرے جینے کی نشانی کہہ لو صرصر وقت اڑا لے گئی روداد حیات وہی اوراق جنہیں عہد جوانی کہہ لو جب نہیں […]

دل کی رہ جائے نہ دل میں یہ کہانی کہہ لو Read More »

اس پر بھی دشمنوں کا کہیں سایہ پڑ گیا

غزل اس پر بھی دشمنوں کا کہیں سایہ پڑ گیا غم سا پرانا دوست بھی آخر بچھڑ گیا جی چاہتا تو بیٹھتے یادوں کی چھاؤں میں ایسا گھنا درخت بھی جڑ سے اکھڑ گیا غیروں نے مجھ کو دفن کیا شاہراہ پر میں کیوں نہ اپنی خاک میں غیرت سے گڑ گیا خلوت میں جس

اس پر بھی دشمنوں کا کہیں سایہ پڑ گیا Read More »

ہم بانسری پر موت کی گاتے رہے نغمہ ترا

غزل ہم بانسری پر موت کی گاتے رہے نغمہ ترا اے زندگی اے زندگی رتبہ رہے بالا ترا اپنا مقدر تھا یہی اے منبع آسودگی بس تشنگی بس تشنگی گو پاس تھا دریا ترا اس گام سے اس گام تک زنجیر غم کے فاصلے منزل تو کیا ہم کو ملے، چلتا رہے رستا ترا تو

ہم بانسری پر موت کی گاتے رہے نغمہ ترا Read More »

دیکھنے والا کوئی ملے تو دل کے داغ دکھاؤں

غزل دیکھنے والا کوئی ملے تو دل کے داغ دکھاؤں یہ نگری اندھوں کی نگری کس کو کیا سمجھاؤں نام نہیں ہے کوئی کسی کا روپ نہیں ہے کوئی میں کس کا سایہ ہوں کس کے سائے سے ٹکراؤں سستے داموں بیچ رہے ہیں اپنے آپ کو لوگ میں کیا اپنا مول بتاؤں کیا کہہ

دیکھنے والا کوئی ملے تو دل کے داغ دکھاؤں Read More »

کہوں یہ کیسے کہ جینے کا حوصلہ دیتے

غزل کہوں یہ کیسے کہ جینے کا حوصلہ دیتے مگر یہی کہ مجھے غم کوئی نیا دیتے شب گزشتہ بہت تیز چل رہی تھی ہوا صدا تو دی پہ کہاں تک تجھے صدا دیتے کئی زمانے اسی پیچ و تاب میں گزرے کہ آسماں کو ترے پاؤں پر جھکا دیتے یہ کہئے لوح جبیں پر

کہوں یہ کیسے کہ جینے کا حوصلہ دیتے Read More »

پھر مری راہ میں کھڑی ہوگی

غزل پھر مری راہ میں کھڑی ہوگی وہی اک شے جو اجنبی ہوگی شور سا ہے لہو کے دریا میں کس کی آواز آ رہی ہوگی پھر مری روح میرے گھر کا پتہ میرے سائے سے پوچھتی ہوگی کچھ نہیں میری زرد آنکھوں میں ڈوبتے دن کی روشنی ہوگی رات بھر دل سے بس یہی

پھر مری راہ میں کھڑی ہوگی Read More »

تری صدا کا ہے صدیوں سے انتظار مجھے

غزل تری صدا کا ہے صدیوں سے انتظار مجھے مرے لہو کے سمندر ذرا پکار مجھے میں اپنے گھر کو بلندی پہ چڑھ کے کیا دیکھوں عروج فن مری دہلیز پر اتار مجھے ابلتے دیکھی ہے سورج سے میں نے تاریکی نہ راس آئے گی یہ صبح زر نگار مجھے کہے گا دل تو میں

تری صدا کا ہے صدیوں سے انتظار مجھے Read More »

میں کہاں ہوں کچھ بتا دے زندگی اے زندگی!

غزل میں کہاں ہوں کچھ بتا دے زندگی اے زندگی! پھر صدا اپنی سنا دے زندگی اے زندگی! سو گئے اک ایک کر کے خانۂ دل کے چراغ ان چراغوں کو جگا دے زندگی اے زندگی! وہ بساط شعر و نغمہ رت جگے وہ چہچہے پھر وہی محفل سجا دے زندگی اے زندگی! جس کے

میں کہاں ہوں کچھ بتا دے زندگی اے زندگی! Read More »

بنے بنائے سے رستوں کا سلسلہ نکلا

غزل بنے بنائے سے رستوں کا سلسلہ نکلا نیا سفر بھی بہت ہی گریز پا نکلا نہ جانے کس کی ہمیں عمر بھر تلاش رہی جسے قریب سے دیکھا وہ دوسرا نکلا ہمیں تو راس نہ آئی کسی کی محفل بھی کوئی خدا کوئی ہم سایۂ خدا نکلا ہزار طرح کی مے پی ہزار طرح

بنے بنائے سے رستوں کا سلسلہ نکلا Read More »

زیست یوں غم سے ہم آغوش ہوئی جاتی ہے

غزل زیست یوں غم سے ہم آغوش ہوئی جاتی ہے عشرت رفتہ فراموش ہوئی جاتی ہے اس نے اک بار پکارا تھا حریم دل سے زندگانی ہمہ تن گوش ہوئی جاتی ہے تم نہ اٹھو مرے پہلو سے خدارا دیکھو کائنات آنکھوں سے روپوش ہوئی جاتی ہے وہ ادھر مجھ سے خفا ہو کے اٹھے

زیست یوں غم سے ہم آغوش ہوئی جاتی ہے Read More »