میخانے کا در کیوں ہے مقفل متواتر
غزل میخانے کا در کیوں ہے مقفل متواتر رہتی ہے طبیعت مری بوجھل متواتر کرتا ہے وہ کیا تیغ کو صیقل متواتر اک برق ہے رقصاں سر مقتل متواتر وہ کل بھی کبھی آئے گی جس کل کو تو آئے سنتا ہی رہوں یا تری کل کل متواتر کب قیس کے مرنے سے کوئی فرق […]
میخانے کا در کیوں ہے مقفل متواتر Read More »