MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میخانے کا در کیوں ہے مقفل متواتر

غزل میخانے کا در کیوں ہے مقفل متواتر رہتی ہے طبیعت مری بوجھل متواتر کرتا ہے وہ کیا تیغ کو صیقل متواتر اک برق ہے رقصاں سر مقتل متواتر وہ کل بھی کبھی آئے گی جس کل کو تو آئے سنتا ہی رہوں یا تری کل کل متواتر کب قیس کے مرنے سے کوئی فرق […]

میخانے کا در کیوں ہے مقفل متواتر Read More »

سفینہ زیست کا طوفان سے نکل آیا

غزل سفینہ زیست کا طوفان سے نکل آیا کہ دل ہے عشق کے ہیجان سے نکل آیا جب ان کی زلفوں کو سونگھا تو عندلیب خیال گلاب و نرگس و ریحان سے نکل آیا کوئی جو پیارا لگے روکتا ہوں حیلے سے حوالہ دیکھیے قرآن سے نکل آیا سنا تو ہوگا یہ قصہ جناب یوسف

سفینہ زیست کا طوفان سے نکل آیا Read More »

ان کی گلی میں برسوں رہائش کے باوجود

غزل ان کی گلی میں برسوں رہائش کے باوجود حاصل نہ کر سکا انہیں کوشش کے باوجود آنکھوں سے آشکارہ نہیں ہونے دی تپش دل میں دہکتی ہجر کی آتش کے باوجود تیرا ہوں میں تو تیرے کرم سے ترا ہوں میں شیطان اور نفس کی سازش کے باوجود شاید اٹھیں وہ سن کے سرافیل

ان کی گلی میں برسوں رہائش کے باوجود Read More »

تعلقات میں اتنا سا اہتمام تو رکھ

غزل تعلقات میں اتنا سا اہتمام تو رکھ نہ کر تو مجھ سے محبت دعا سلام تو رکھ بتاؤں کیسے ترے ہجر میں کٹے مرے دن تو ایک شب مرے گھر میں کبھی قیام تو رکھ مری صفائی میں بھی شیر خوار بولیں گے تو اے زلیخا محل میں مجھے غلام تو رکھ تلاش کیسے

تعلقات میں اتنا سا اہتمام تو رکھ Read More »

کمرے میں تھی خراٹوں کی کھڑ کھڑ متواتر

غزل کمرے میں تھی خراٹوں کی کھڑ کھڑ متواتر سانسیں تری بجتی رہیں پھڑ پھڑ متواتر سوتے میں بھی تکتی رہی لڑنے کے تو سپنے تھی نیند کی حالت میں بھی بڑ بڑ متواتر ککڑ کوئی کرتا رہا تنگ اس کو مسلسل ککڑی تری کرتی رہی کڑ کڑ متواتر شاید مجھے کہہ دے کہ رکو

کمرے میں تھی خراٹوں کی کھڑ کھڑ متواتر Read More »

متاع حسن و جمال و کمال کیا کیا کچھ

غزل متاع حسن و جمال و کمال کیا کیا کچھ چرا کے لے گئے یہ ماہ و سال کیا کیا کچھ تو منہ سے بولے نہ بولے سنا رہے ہیں ہمیں فسانے شب کے ترے خد و خال کیا کیا کچھ مرے خدا نے ہے بخشا مجھے وراثت میں مزاح و طنز و جمال و

متاع حسن و جمال و کمال کیا کیا کچھ Read More »

کرو اب ختم یہ قصہ نہ تو میری نہ میں تیرا

غزل کرو اب ختم یہ قصہ نہ تو میری نہ میں تیرا ہٹاؤ روز کا جھگڑا نہ تو میری نہ میں تیرا یہ دنیا ٹھیک کہتی ہے محبت آفت جاں ہے تو بس اب فیصلہ پکا نہ تو میری نہ میں تیرا یہ اچھا پیار ہے دشنام ہے طعنے ہیں شکوے ہیں اری ظالم میں

کرو اب ختم یہ قصہ نہ تو میری نہ میں تیرا Read More »

تری راہ دیکھتا میں بتِ بے وفا کہاں تک

غزل تری راہ دیکھتا میں بتِ بے وفا کہاں تک ترا انتظار میں نے کیا صبح کی اذاں تک وہی راہزن جنہوں نے مرے کارواں کو لوٹا بخدا انہی میں شامل ہے امیر کارواں تک نہ اسے اگر بجھایا تو چمن کو پھونک دے گی یہی آگ جو ابھی ہے مری شاخ آشیاں تک کسی

تری راہ دیکھتا میں بتِ بے وفا کہاں تک Read More »

اس نے مجھے سلام کیا لام کے بغیر

غزل اس نے مجھے سلام کیا لام کے بغیر یہ بد دعا تھی مجھ کو مرے نام کے بغیر ہر روز ماں کا چہرہ میں تکتا ہوں پیار سے ہر روز حج میں کرتا ہوں احرام کے بغیر اک میں ہوں میری آنکھ میں آنسو ہیں صبح صبح دنیا دئیے جلاتی نہیں شام کے بغیر

اس نے مجھے سلام کیا لام کے بغیر Read More »

کیوں لیا تھا مرا دل دل مجھے واپس کر دے

غزل کیوں لیا تھا مرا دل دل مجھے واپس کر دے چھوڑ یہ روز کی کل کل مجھے واپس کر دے اچھی مس ہے کوئی مس کال نہ میسج کوئی اپنی سم لے لے موبائل مجھے واپس کر دے لینڈ لائن سے کیا کرتی تھی کیوں غیر کو فون جو ادا میں نے کئے بل

کیوں لیا تھا مرا دل دل مجھے واپس کر دے Read More »