MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سوچ میں ڈوبا ہوا ہوں عکس اپنا دیکھ کر

غزل سوچ میں ڈوبا ہوا ہوں عکس اپنا دیکھ کر جی لرز اٹھا تری آنکھوں میں صحرا دیکھ کر پیاس بڑھتی جا رہی ہے بہتا دریا دیکھ کر بھاگتی جاتی ہیں لہریں یہ تماشا دیکھ کر ایک دن آنکھوں میں بڑھ جائے گی ویرانی بہت ایک دن راتیں ڈرائیں گی اکیلا دیکھ کر ایک دنیا […]

سوچ میں ڈوبا ہوا ہوں عکس اپنا دیکھ کر Read More »

مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا

غزل مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا میں رقص کرتا رہا ساری عمر وحشت میں ہزار حلقۂ زنجیر بام و در میں رہا ترے فراق کی قیمت ہمارے پاس نہ تھی ترے وصال کا سودا ہمارے سر میں رہا یہ آگ ساتھ نہ

مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا Read More »

ہیں سحر مصور میں قیامت نہیں کرتے

غزل ہیں سحر مصور میں قیامت نہیں کرتے رنگوں سے نکلنے کی جسارت نہیں کرتے افسوس کے جنگل میں بھٹکتے ہیں خیالات رم بھول گئے خوف سے وحشت نہیں کرتے تم اور کسی کے ہو تو ہم اور کسی کے اور دونوں ہی قسمت کی شکایت نہیں کرتے مدت ہوئی اک شخص نے دل توڑ

ہیں سحر مصور میں قیامت نہیں کرتے Read More »

بدن چراتے ہوئے روح میں سمایا کر

غزل بدن چراتے ہوئے روح میں سمایا کر میں اپنی دھوپ میں سویا ہوا ہوں سایا کر یہ اور بات کہ دل میں گھنا اندھیرا ہے مگر زبان سے تو چاندنی لٹایا کر چھپا ہوا ہے تری عاجزی کے ترکش میں انا کے تیر اسی زہر میں بجھایا کر کوئی سبیل کہ پیاسے پناہ مانگتے

بدن چراتے ہوئے روح میں سمایا کر Read More »

یہ کون آیا شبستاں کے خواب پہنے ہوئے

غزل یہ کون آیا شبستاں کے خواب پہنے ہوئے ستارے اوڑھے ہوئے ماہتاب پہنے ہوئے تمام جسم کی عریانیاں تھیں آنکھوں میں وہ میری روح میں اترا حجاب پہنے ہوئے مجھے کہیں کوئی چشمہ نظر نہیں آیا ہزار دشت پڑے تھے سراب پہنے ہوئے قدم قدم پہ تھکن ساز باز کرتی ہے سسک رہا ہوں

یہ کون آیا شبستاں کے خواب پہنے ہوئے Read More »

مرا اکیلا خدا یاد آ رہا ہے مجھے

غزل مرا اکیلا خدا یاد آ رہا ہے مجھے یہ سوچتا ہوا گرجا بلا رہا ہے مجھے مجھے خبر ہے کہ اک مشت خاک ہوں پھر بھی تو کیا سمجھ کے ہوا میں اڑا رہا ہے مجھے یہ کیا طلسم ہے کیوں رات بھر سسکتا ہوں وہ کون ہے جو دیوں میں جلا رہا ہے

مرا اکیلا خدا یاد آ رہا ہے مجھے Read More »

دامن میں آنسوؤں کا ذخیرہ نہ کر ابھی

غزل دامن میں آنسوؤں کا ذخیرہ نہ کر ابھی یہ صبر کا مقام ہے گریہ نہ کر ابھی جس کی سخاوتوں کی زمانے میں دھوم ہے وہ ہاتھ سو گیا ہے تقاضا نہ کر ابھی نظریں جلا کے دیکھ مناظر کی آگ میں اسرار کائنات سے پردا نہ کر ابھی یہ خامشی کا زہر نسوں

دامن میں آنسوؤں کا ذخیرہ نہ کر ابھی Read More »

وہ لوگ جو زندہ ہیں وہ مر جائیں گے اک دن

غزل وہ لوگ جو زندہ ہیں وہ مر جائیں گے اک دن اک رات کے راہی ہیں گزر جائیں گے اک دن یوں دل میں اٹھی لہر یوں آنکھوں میں بھرے رنگ جیسے مرے حالات سنور جائیں گے اک دن دل آج بھی جلتا ہے اسی تیز ہوا میں اے تیز ہوا دیکھ بکھر جائیں

وہ لوگ جو زندہ ہیں وہ مر جائیں گے اک دن Read More »

خود اپنا عکس ہوں کہ کسی کی صدا ہوں میں

غزل خود اپنا عکس ہوں کہ کسی کی صدا ہوں میں یوں شہر تا بہ شہر جو بکھرا ہوا ہوں میں میں ڈھونڈنے چلا ہوں جو خود اپنے آپ کو تہمت یہ مجھ پہ ہے کہ بہت خود نما ہوں میں مجھ سے نہ پوچھ نام مرا روح کائنات اب اور کچھ نہیں ہوں ترا

خود اپنا عکس ہوں کہ کسی کی صدا ہوں میں Read More »

وہ دن کب کے بیت گئے جب دل سپنوں سے بہلتا تھا

غزل وہ دن کب کے بیت گئے جب دل سپنوں سے بہلتا تھا گھر میں کوئی آئے کہ نہ آئے ایک دیا سا جلتا تھا یاد آتی ہیں وہ شامیں جب رسم و راہ کسی سے تھی ہم بے چین سے ہونے لگتے جوں جوں یہ دن ڈھلتا تھا ان گلیوں میں اب سنتے ہیں

وہ دن کب کے بیت گئے جب دل سپنوں سے بہلتا تھا Read More »